حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 23
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 23 خود نوشت حالات زندگی الاول (نو راللہ مرقدہ) نے دعا کے ساتھ ہمیں الوداع کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) نے خوش خوش باہر شہر سے جا کر ہمیں یکے پر بٹھا کر رخصت کیا۔یہ واقعہ ۱۹۱۳ء کا ہے۔قاہرہ اور بیروت میں تعلیم قاہرہ میں قدیم طریقہ تعلیم سے میرا دل اچاٹ ہو گیا۔ابھی چار ماہ گذرے تھے کہ اس تصرف سے بیروت دیکھنے کا مجھے موقع ملا اور میں نے شیخ (عبدالرحمن مصری صاحب ) کو قاہرہ چھوڑ (کر ) بیروت میں پڑھائی شروع کر دی۔اتنے میں جنگِ عظیم اول شروع ہوگئی اور بیروت خطرہ میں تھا۔میرے اساتذہ نے مجھے مشورہ دیا کہ میں حلب چلا جاؤں۔چنانچہ میں حلب آیا اور یہاں اعلیٰ پایہ کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔اسی اثنا میں مجھے سات ماہ ایک ترکی رسالہ میں بھی خدمت کا موقع ملا اور میری اس خدمت کے صلہ میں سفارش کی گئی کہ ترکی کے امتحان کی شرط سے مجھے مستثنیٰ کیا جائے۔چنانچہ بیت المقدس میں میں نے امتحان دیا اور اچھے نمبروں پر پاس ہوا۔صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس اور صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس میں بطور استاد متعین ہو گیا اور یہاں عربی میں پڑھانے اور تعلیم جاری رکھنے کا سنہری موقع ملا۔فنِ تعلیم و تدریس میں مقابلہ کے ایک امتحان کا اعلان ہوا جس میں کئی اساتذہ شریک ہوئے۔(میں ) اس امتحان میں اول رہا اور مجھے۔۔۔کا تمغ۔۔۔۔۔اور پچاس اشرفیاں انعام ملیں اور شام کی یونیورسٹی سے جوسند بہ دستخط وزیر تعلیم اور کونسل جاری کی گئی وہ بھی تعلیمی لحاظ سے میرے لئے بہت خوش کن تھی۔اس میں اس بات کا ذکر تھا کہ ایک قلیل عرصہ میں علوم آداب عربیہ کی ایسی قابلیت حاصل کر لینا ایک نادر بات ہے۔(الحمد لله علی ذالک)