حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 135
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 135 علمی کارنامے کوئی اور کام مجھے دیا جائے۔میں اس قابل نہیں ہوں اور قرار پایا کہ عربی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر ایک مفصل اور مستند کتاب لکھی جائے مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس تجویز کو بھی نا منظور کرتے ہوئے واضح الفاظ میں حکم دیا کہ میں فورا صحیح بخاری اور ترجمہ کا کام شروع کر دوں اور اس کے بعد آپ نے اس بارہ میں اصولی ہدایات سے مجھے متمنع فرمایا۔آپ کے اصل مقصد کو سمجھ کر محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے میں نے یہ مبارک کام شروع کر دیا۔پہلے تین چار سالوں میں ترجمے کا کام مکمل ہوا اور جب ۱۹۳۱ء میں نظارت دعوۃ الی اللہ ) کی خدمت علاوہ اس کام کے میرے سپرد ہوئی اور اس دوران میں تحریک کشمیر کی زمام حضرت خلیفہ مسیح الثانی ( نوراللہ مرقدہ) کے ہاتھ میں دی گئی اور آپ کے ارشاد کے ماتحت مجھے اس کی خاطر متواتر سفروں میں رہنا پڑا تو شرح کا کام چھ اجزا ء تک پہنچ کر التوا میں پڑ گیا اور امسال ان سفروں سے فراغت ہونے پر یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب پھر شروع ہو گیا ہے اور میں اُس کی جناب سے امید کرتا ہوں کہ وہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک ارادہ کی تکمیل کی توفیق مجھے دے گا۔ہم کیا ہیں اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں بے مثیت آلہ کار۔جس طرح چاہتا ہے اُسے حرکت دیتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے سکون میں لاتا ہے۔ہمارا سلسلہ روحانی ہے اور اسے شناخت کرنے کیلئے روحانی آنکھ سے کام لینا چاہئے۔ہر بات اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وابستہ ہے اور وہ فرماتا ہے آسمان سے بہت دودھ اُترا ہے اُسے محفوظ کرو“۔( تذکرہ صفحہ (۱۰) اور یہ وہی دودھ ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے محفوظ کیا جا رہا ہے ورنہ ہماری بساط ہی کیا! ہماری کم مائیگی ہماری ہر بات سے عیاں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے عجیب تصرفات میں سے ہے کہ وہ شہتیروں کا کام تنکوں سے لیتا ہے۔یہی اس کی عادت روحانی سلسلوں میں قدیم سے چلی آ رہی ہے تا دیکھنے والے دیکھیں کہ اس کی داغ بیل عاجز انسانوں کے ہاتھوں سے نہیں ڈالی گئی بلکہ ملائکۃ اللہ کے دست تصرف سے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے حامل ہو کر روحانی