حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 133
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 133 علمی کارنامے خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت ناظر اعلیٰ تھے۔ان کی طرف سے میرے نام ایک آرڈر بدیں مضمون ہے کہ نظارت تالیف و تصنیف میں آپ کو تبدیل کیا جاتا ہے ( دمشق جانے سے پہلے میں ناظر تعلیم و تربیت تھا ) اس آرڈر سے مجھے انقباض محسوس ہوا۔اس لئے میں نے دستخط کرنے میں تامل کیا مگر وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں گویا کہ حکم کی تعمیل بہر حال ضروری ہے۔آخر افسردگی اور خاموشی میں میں دستخط کرتا ہوں۔مولوی جلال الدین صاحب شمس کو میں نے یہ ماجرا سنایا اور کسی وقت ایک خط مولوی عطا محمد صاحب کو لکھا اور اپنی تبدیلی کے متعلق دریافت کیا۔جواب نفی میں آیا۔جب جولائی ۱۹۲۶ء کو میں دارالامان واپس پہنچا تو محترم نیر صاحب مجھے احمد یہ چوک میں ملے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔میرے کان میں بصیغہ راز کہتے ہیں۔”مبارک ہو آپ کو ناظر تجارت بنایا گیا ہے۔ان کے اشارہ کو تو میں سمجھتا تھا۔مگر میں نے ان سے بھی کہا خدمت سے غرض ہے جہاں کہیں بھی لگایا جاؤں اور انہی دنوں قادیان میں خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کا نام میں بھول گیا ہوں مگر اس کے نام کا ایک جز ولفظ ”محمد“ ہے دودھ کا بھرا ہوا پیالہ میرے سامنے پیش کرتا ہے جس میں بالائی بھی ہے اور میں اسے پیتا ہوں۔محترم مولوی عبد المغنی صاحب سابق ناظر بیت المال سے سیالکوٹ جا کر تجارت کا چارج لیا اور تجارتی حالت کے متعلق ایک رپورٹ مرتب کر کے صدر انجمن احمدیہ کے سامنے پیش کی جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ڈلہوزی بھیجی گئی۔آپ نے مجھے اور سید انعام اللہ شاہ صاحب مرحوم کو بذریعہ تار ڈلہوزی بلایا۔اسی اثنا میں مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۲۶ء کی رات کو چوہدری نصر اللہ خان صاحب کے انتقال کی اطلاع بذریعہ تارپہنچی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دوسرے دن بغرض جنازہ دارالامان کے لئے روانہ ہوئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔راستہ میں بمقام دو نیرہ آپ نے سفر کے چکر اور کوفت دور کرنے کیلئے مجھے چائے پینے کیلئے فرمایا میں نے معذرت کی کہ مجھے کچھ حرارت ہے اور یہ کہ دمشق اور عراق میں لگا تار کام کرنے کی وجہ سے صحت پر اثر پڑا ہے۔آپ نے فرمایا کہ