حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 93
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 93 ذکر حبیب اور ڈھاب ہوا کرتی تھی۔یہاں سے گذر کر حضور علیہ السلام موڑ کے قریب پہنچے۔جہاں اب نیک محمد خان صاحب کا مکان واقعہ ہے۔تو اس موقع پر حکیم عبدالعزیز صاحب پسروری نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ حضور آدم کے متعلق قرآن میں آتا ہے۔عصى آدَمُ رَبَّه غوی۔ایک نبی کی شان میں ایسے الفاظ آتے ہیں۔حضور نے اس وقت تقریر فرمائی۔اس میں سے یہ حصہ مجھے اب تک یاد ہے۔حضور علیہ السلام نے عربی کے اشتقاق کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عصفور ( چڑیا ) کا لفظ بھی دو لفظوں سے مرکب ہے عصی اور فرعصی کے معنی قابو سے نکل گیا۔فسر کے معنی بھاگ گیا۔چڑیا کو عصفور اس لئے کہتے ہیں کہ ذرا موقع پانے پر فورا ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔اس موقع پر آدمیوں کے ریلے نے مجھے پیچھے دھکیل دیا۔چونکہ حضرت اقدس تیز چلتے تھے اس لئے میں اس کشمکش میں پیچھے رہ گیا اور باقی باتیں نہ سن سکا۔الفضل قادیان ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ ، صفحریه) بچوں سے شفقت و محبت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت و محبت کے بارہ میں بیان فرماتے ہیں کہ :- ۱۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو جب کانگڑہ کا زلزلہ آیا تو حضور علیہ السلام بڑے باغ میں معہ اپنے اہل و عیال تشریف لے گئے اور ہم طلبائے مدرسہ بھی باغ میں چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ والے مکان میں تشریف رکھتے تھے جس کا ہم طلبائے مدرسہ باری باری پہرہ بھی دیا کرتے تھے۔اس مکان کے جانب مشرق ایک توت کا درخت تھا۔اس کے قریب ایک دفعہ خواجہ عبدالرحمن صاحب فارسٹ رینجر ( کشمیر ) اور میں پہرہ پر متعین تھے رات اندھیری تھی۔اتنے میں ہم نے کسی کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح