ولادت سے نبوت تک — Page 80
بالکل اسی طرح جب دنیا میں گنا ہوں، ظلموں کی زیادتی ہوتی ہے اور کسی طرف سے بھی اصلاح کی ہوائیں نہ آئیں تو اس جیس کے دور میں باران رحمت یعنی خدا کی طرف سے نبی کی آمد یقینی ہو جاتی ہے۔اور موسلا دھار بارش نبی کا وجود ہوتا ہے جو خدا کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کا باعث ہوتا ہے۔جو پیاسی زمین یعنی انسانی قلب و ذہن کو سیراب کرتا ہے۔پھر عشق خداوندی کا بیج بوتا ہے جس سے آہستہ آہستہ انسانیت کا اخلاقیات کا پودا نکل کر تناور درخت بنتا ہے اوراس میں خلوص انتشار محبت تحمل بریاری اور قربانی کے پھل لگتے ہیں۔لیکن موسلا دھار بارش سے پہلے جو پھوار برستی ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رحمت قریب ہے۔ہر بنی کی آمد کے زمانے سے پہلے ایسے افراد ضرور پیدا ہوتے ہیں جو اس نظام کی خرابی کو بیان کرتے اور معاشرے میں قائم غلط روایات کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ساتھ ہی وہ بھی اسی رحمت کی تلاش میں ہوتے ہیں جس کی نشاندہی نبی کے آنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔بچہ اس زمانے میں وہ کون خوش نصیب لوگ تھے ؟ کیا آپ ان کے نام بتائیں گی۔ماں پیارے آقا کی نبوت کے اعلان سے پہلے چار نام ملتے ہیں۔ان میں سے دو کا ذکر کرتی ہوں۔-۱- حضرت خدیجہ کے چا زاد بھائی ورقہ بن نوفل۔جو خدا کی تلاش میں یہودیت - نصرانیت اور دین ابراہیم کا مطالعہ کرتے ہوئے بال آخر عیسائی ہو گئے۔اور الہامی کتابوں کے ماہر مانے جاتے تھے۔