ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 43 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 43

سلام ماں جس طرح ایک آئینہ اگر صاف ہے تو اس میں چہرہ بھی صاف نظر آئے گا۔اگر اس پر گرد و غبار ہے تو چہرہ بھی دھندلی دکھائی دیگا اور اگر مکمل طور پر گرد سے آٹ جائے تو پھر تو کچھ بھی نظر نہیں آنا۔اسی طرح انسان دور ہو تو آواز نہیں آتی۔یا پھر ایک اور اصول ہے کہ اس آواز یا بات کو یا پھر نہ بان کو جس میں بات ہو رہی ہے، سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔اس لئے اگر آواز سنائی بھی دے تب بھی انسان اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اگر آپ کہیں کہ فون کی آواز تو بڑی دور سے آجاتی ہے۔لیکن اگر لائن درست نہ ہو تو آپ کا مطلوبہ نمبر نہیں ملے گا۔اور اگر مل جائے گا تو لائن صاف نہ ہونے کی وجہ سے بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔بالکل اسی طرح اگر انسان کا دل صاف نہیں تو اس کو خدا نہیں مل سکتا۔وہ موجود ہونے کے باوجود اس کو نظر نہیں آتا۔کیونکہ دل اور ذہن پر گناہوں کی ، خطاؤں کی ، کمزوریوں کی گرد (مٹی) پڑی ہوتی ہے۔اور چونکہ خدا کے کلام کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے اس کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔پھر ہمارا اپنے خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ یا رابطہ نہیں ہے۔اس لئے اس کی ہدایات ہم تک پہنچ نہیں سکتیں گو یا لائن نہیں ملتی یا نظام کی خرابی کی وجہ سے درست آواز نہیں آتی۔یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ ہم اگر اپنی اصلاح کرلیں اور دل اور دماغ کو صاف رکھیں۔بری باتوں سے بچیں۔نہ خرابیوں کو دیکھیں نہ گندی باتیں سنیں۔اور نہ فضول خیالات ذہن میں آنے دیں اگر بار بار کوشش کرنے کے باوجود پھر بھی دل میں کسی کے لئے کوئی