ولادت سے نبوت تک — Page 30
بچہ آپ بتاتی ہیں کہ بعض لوگوں نے آپ کو بچپن میں ہی پہچان لیا تھا کہ اس بچہ کی بڑے ہو کر شان ظاہر ہوگی۔اس کے متعلق کوئی واقعہ سنائیں۔ماں واقعات تو کئی ہیں۔جب حضرت حلیمہ آپ کو آپ کی امی کے پاس شق صدر کے واقعہ کے بعد چھوڑنے آرہی تھیں، جب کچھ لوگوں نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا تھا۔لیکن ایک واقعہ بتاتی ہوں۔مکہ میں بنی لہب کا ایک آدمی آیا یہ علم قیافہ یعنی چہرہ دیکھ کر حالات بتانے والا تھا۔قریش کے لوگ اپنے اپنے بچوں کو لے کر اس کے پاس آئے تاکہ حالات معلوم کر سکیں۔حضرت ابو طالب بھی آپ کو لے کر پہنچے۔اس نے آپ کو ایک نظر دیکھا پھر دوسر بچوں میں مصروف ہو گیا۔باری باری ان کے ماں باپ کو ان بچوں کے بارے میں بتاتا رہا۔وہ غالباً یہ چاہتا تھا کہ سب سے فارغ ہو کر اطمینان سے آپ کو دیکھے۔اور پھر اندازہ لگائے کہ یہ کیس شان کا بچہ ہے۔جب اس کو فرصت ملی تو بولا اس بچے کو لاؤ جس کو میں نے ابھی دیکھا تھا۔وہ تو بڑا ہو نہار معلوم ہوتا ہے اس کی ضرور شان ظاہر ہوگی۔لیکن جب اس کو حضرت محمد دکھائی نہ دئیے تو بے قراری سے پوچھتا رہا۔وہ بار بار آپ کو تلاش کرنے کی غرض سے ادھر اُدھر بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔اس کی حالت دیکھ حضرت ابو طالب کو خوف محسوس ہوا اور انہوں نے آپ کو چھپا لیا۔پھر آہستہ سے لوگوں کے ہجوم سے نکل آئے اور تیزی سے آپ کو لے کر گھر میں داخل ہو گئے۔سیرت ابن ہشام جلد اول ص 14