ولادت سے نبوت تک — Page 28
۲۸ سے پیار کرتے۔انہیں اپنے ساتھ سلاتے ، آپ کے بغیر کھانا نہیں کھاتے ، اگر کسی وجہ سے دیر سے گھر آتے اور بچے کھانا کھا چکے ہوتے تو سب سے پہلے پوچھتے کہ محمد نے کھانا کھایا۔اسی طرح آپ بھی ہر جگہ نتھے محمد کو ساتھ ساتھ رکھتے اور یہ پیار کا سلوک حضرت ابو طالب نے اپنی آخرمی زندگی تک جاری رکھا۔سارے قریش کے قبائل سے دشمنی مول لے لی۔لیکن آپ کی حفاظت اور محبت میں کوئی فرق نہ آیا۔بچہ پیارے محمد کے بچپن کا کوئی اور واقعہ سنائیے۔ماں واقعات تو بہت سے ہیں۔ایک سناتی ہوں۔ابھی آپ چھوٹے تھے۔دادا جان کی وفات کے بعد مکہ میں قحط پڑا۔جب کافی عرصہ تک بارش نہیں ہوئی تو قریش حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور دعا کی درخواست کی حضرت ابو طالب کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے نتھے محمد کا ہاتھ پکڑا اور خانہ کعبہ میں لے گئے۔کعبہ کی دیوار کے ساتھ آپ کو کھڑا کر کے کہا کہ بیٹیا دعا کرو کہ بارش ہو جائے آپ نے بھی چا کی بات فوراً مان لی اور اپنے ننھے ننھے ہاتھ خدا کے حضور اٹھا دئیے معصوم سی صورت والے اس منے سے شہزادے کی یہ ادا میرے مولا کو بہت پسند آئی۔اور اس کے ہاتھ اٹھاتے ہی آسمان میں رحمت کے بادل چھا گئے اور بارش برسنے لگی۔سیرت التي جلد اول شبلی نعمانی صفحه ۱۷۷