ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 81 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 81

۲ دسرے زید بن عمرو بن نفیل۔نہ یہودی ہوئے اور نہ نصرانی یہ دین ابراہیمی کی تلاش میں مکہ سے نکلے۔بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔جب معلوم ہوا کہ ایک نبی کا ظہور مکہ سے ہی ہوگا تو واپس آگئے شرک سے سخت نفرت تھی۔بتوں کی قربان گاہ کا نہ کھاتے۔لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کرتے۔آخری عمر میں بڑی بے بسی کے عالم میں خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھاتے کہ اللہ نہیں معلوم کہ تیری عبادت کیسے کروں۔پھر حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق " کہتی ہیں کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ کر اس پر سجدہ کر لیتے۔اسی حالت میں دین ابراہیمی پر قائم رہتے ہوئے وفات پائی۔لیکن ان کی تلاش ضائع نہیں ہوئی۔ان کے بیٹے سعید بن زید جو حضرت عمر کے بہنوئی تھے مسلمان ہوئے۔بچہ کیا پیارے آقا کو بھی دین ابراہیم کی تلاش مخفی ؟ مانی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ بھی اپنے دادا جان حضرت ابراہیم کی طرح خدا کی تلاش میں محو ہوتے جارہے تھے۔سورج ، چاند ستاروں۔آسمان زمین ہر چیز پر غور کرتے۔اسی غور و فکر کے لئے تنہائی آپ کا معمول بن گیا۔آپ دنیا سے کئے جا رہے تھے اکیلے رہنا اچھا لگتا یہی وہ حالت تھی جس میں غیب کے راز کھلنے لگے۔لیکن مالک حقیقی کا پتہ نہ چلتا تھا۔کہ وہ کون ہے۔کہاں ہے کیا چاہتا ہے۔اسی فکر کی خاطر آپ نے ایک جگہ ڈھونڈ نکالی۔مکہ شہر سے تین میل کے فاصلے پر حرا پہاڑ ہے۔اس کے غارمیں چلے جاتے۔کچھ سال تو آپ مہینہ بھر اس غار میں گزارتے یا پھر جب دل