ولادت سے نبوت تک — Page 71
حضرت خدیجہ نے اس کی خوبیاں دیکھتے ہوئے اس کو اپنے مقدس شوہر کی خدمت میں پیش کر دیا۔یہ لڑکا ایک آزاد گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔لیکن کسی لوٹ مار کے نتیجہ میں اس بچے کو غلام بنالیا تھا لیکن کسی نوٹ مار کے نتیجہ میں اس بچے کو غلام بنا لیا تھا۔چنانچہ آپ نے اس سے بڑی ہی محبت کا سلوک کیا۔زید کے والد اور چچا کعب بچے کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے جب انہیں معلوم ہوا کہ اہل حرم کی محترم اور قابل احترام سہتی جس کو سارا مکہ عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔وہ زید کا آتا ہے۔وہ اس امید پر کہ آپ ان کے خاندان پر رحم کا سلوک کریں گے مگہ چلے آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر زید کو لے جاتا چاہا کیونکہ سارا گھرانہ بچے کی وجہ سے سخت بے قرار تھا۔بچہ لیکن اس طرح تو اس زمانے میں کوئی غلام کو آزاد نہیں کرتا۔ماں آپ دیکھتے تو جائیں کہ پیارے آقا کی کیا کیا خوبیاں دنیا پر طاہر ہو رہی ہیں۔جب یہ دونوں آپ کے پاس آئے اور اپنے دکھ اور پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی کہ ہم اس کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔جانتے ہو آپ نے کیا کہا ؟ آپ نے نہید کو بلایا۔پوچھا کہ تم ان دونوں کو پہچانتے ہو۔زید نے بتایا کہ یہ میرے والد ہیں۔اور یہ میرے چچا ہیں۔آپ نے پوچھا کہ یہ دونوں تم کو لے جانے کے لئے آئے ہیں۔اگر جانا چاہو تو چلے جاؤ میری طرف سے اجازت ہے۔زید کے والد اور چھاکو تو اس طرح بغیر کسی شرط کے امید نہیں ہوگی اور نہ ہی زید کو۔کہ اتنی آسانی سے آزادی مل جائے گی۔له سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۴۳