ولادت سے نبوت تک — Page 33
} ۳۳ ٹھرتے بھی ہیں پہلے تو کبھی اس راہب نے ایسا سلوک نہیں کیا۔دون کرنا تو دور کی بات، وہ تو صومعہ سے بھی باہر نہیں نکلتا تھا۔آخر اس اچانک تبدیلی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔قافلہ کے لوگ اسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ بالآخر ایک شخص نے اس سے پوچھ ہی لیا۔وہ بولا۔آپ کی بات صحیح ہے۔پھر اصل بات کو چھپاتے ہوئے کہا کہ آپ میرے مہمان ہیں۔اس لئے میں نے چاہا کہ آپ کی دعوت کروں یہ اس کا اصرار تھا کہ ہر فرد چاہے بچہ ہی کیوں نہ ہو یا غلام ہو دعوت میں سب آئیں۔لیکن پیارے محمد چونکہ بچہ تھے۔آپ کی عمر بارہ سال تھی اس لئے اپنے سامان کے پاس ٹھہر گئے۔اور سب دعوت پر چلے گئے۔بچہ لیکن بحیرہ راہب تو چاہتا تھا کہ سب آئیں ماں اسی لئے تو وہ ہر آنے والے کو غور سے دیکھتارہا۔اور جب اس نے آپ کو نہ پایا تو پوچھا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا۔بتایا گیا کہ ایک بچہ اپنے سامان کے پاس ہے۔وہ بولا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ سب آئیں۔پھر آپ کو اصرار کر کے بلوایا۔چونکہ وہ پہلے ہی آپ کی شان کو دیکھ چکا تھا اس لئے وہ ہر حرکت کا بغور جائزہ لیتا رہا۔جب سب کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ آپ کو لے کر ایک طرف ہو گیا۔اس نے آپ کے سارے جسم کو غور سے دیکھا اور کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مہر نبوت کو پہچان لیا۔جو آپ کے دو کندھوں کے درمیان ابھرا ہوا گوشت کا حصہ تھی۔ه نقوش رسول جلد II صفحہ ۶۹