ولادت سے نبوت تک — Page 29
۲۹ بچہ کیا حضرت ابو طالب کو اندازہ تھا کہ یہ با برکت بچہ ہے۔ماں بالکل اندازہ بلکہ یقین تھا۔وہ آپ کے پیدا ہونے سے ہی ان برکتوں کو دیکھ رہے تھے پھر حضرت عبدالمطلب نے تو وفات سے پہلے وصیت میں بڑی وضاحت سے بیان کیا کہ " اس کی پیروی حرم کے سوا تمام کرہ ارض کی کشادہ اور سنگلاخ زمین میں بھی کی جائے گی۔اور ساکنان حرم اور اس کے ارد گرد کے لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔اور جو بھی جزائے خیر کا طالب ہو گا۔وہ اس کی اقتداء سے سرتابی نہ کرے گا ، نہ بچہ پیارے محمد اس کم عمری میں کیا کیا کرتے۔کیا وہ اسکول میں داخل نہیں ہوئے تھے ؟ ماں عرب میں عام طور پر اور شرفاء اور رؤساء میں خاص طور پر پڑھائی کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔بلکہ ان کو اپنے حافظے پر بڑا مان تھا۔وہ ہر بات ، ہر چیز کو یاد رکھ لیتے۔اس لئے لکھنے پڑھنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔پھر اس زمانے میں آجکل کی طرح پڑھائی کا رواج بھی نہ تھا۔میں بچے یا تو کھیلتے تھے یا اگر کوئی کام کرتے تو بکریوں کو چرانے لے جاتے تھے۔اُسی زمانے کا ذکر ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ در جو پہلو کالے ہو جاتے ہیں زیادہ میٹھے ہوتے ہیں۔میں بھی بکریاں چراتے ہوئے ان کو چن چن کر کھایا کرتا تھا تے له نقوش رسول نمبر جلد 11 صفحہ 42 نے سیرت خاتم النبیین جلد اول