ولادت سے نبوت تک — Page 78
تسلی ہو جاتی تو کبھی بے قراری بڑھ جاتی۔یونہی دن گزر رہے تھے بچہ لیکن اس طرح تو کام نہیں چل سکتا۔کوئی تو ان سوالوں کا حل بتاتا۔ماں عمر کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر کائنات کے اسرار (رازہ) کھولنے شروع کر دئیے۔آپ کو غیب کی باتیں بتائی جاتیں چونکہ شروع سے ہی آپ خدا تعالیٰ کی خاص حفاظت میں تھے۔وہی آپ کی تربیت کر رہا تھا۔وہی آپ کا استاد بھی تھا۔اور وہی ذہین میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات بھی بتاتا رہا۔اس کے بنانے کا طریقہ ابھی بالکل ابتدائی تھا۔جو بات آپ کو زیادہ غور کرنے کے باوجود سمجھ میں نہیں آتی تھی۔اور اس کی وجہ سے بی فراری بڑھ جاتی۔لیکن اچانک خود بخود وہ راز آپ پر کھل جانا حقیقت جان کر دل اور ذہین بھی مطمئن ہو جاتا۔یوں بعض باتیں اور حقائق کھل کر وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو رہے تھے۔بچہ کیا ان باتوں سے آپ اللہ میاں کے بارے میں کچھ سمجھ سکتے تھے۔ماں آپ جانتے ہی ہیں کہ پیارے آقا اس کائنات کے ، زمین آسمان کے مخلوقات کے ، انسانوں کے بنانے والے کے بارے میں مسلسل ایک لمبے عرصے سے سوچ رہے تھے جبکہ حقیقت واضح نہیں ہو رہی تھی ، دوسری طرف آپ کی آنکھوں کے سامنے اُن سب چیزوں کے خالق کے طور پر الگ الگ بتوں کی پوجا کی جارہی مخفی لیکن آپ کا دل ہر گز اس بات کو ماننے کو تیار نہ تھا کہ حیثی جاگتی دنیا کے ، حرکت کرتی مخلوقات کے ، چلتے پھرتے نظام کے بے جان بے حس و حرکت پتھروں کے بت کیسے خالق ہو سکتے ہیں۔