ولادت سے نبوت تک — Page 72
ماں آپ کی شرافت رحمدلی سے امید تو تھی جب ہی تو آئے تھے۔لیکن اس سے بھی زیادہ کمال ہوگیا۔زید نے صاف جواب دے دیا کہ میں لا اپنے آقا کو چھوڑ کو نہیں جاؤں گا۔ہے بچہ وہ کیوں کیا۔ماں یہی تو کمال ہے۔باپ سے زیادہ اس کو آپ کے ساتھ پیار ہو گیا تھا اور اسی بات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ آپ کا اپنے غلاموں کے ساتھ کتنا محبت اور پیار کا سلوک تھا جو ماں باپ کی محبت پر بھی غالب آگیا۔باپ نے ، چھانے، بہت زور لگایا لیکن زید نے ماننا تھا نہ مانے۔آخر وہ تھک کر جانے لگے تو پیارے آقا نے زید کا ہاتھ پکڑا اور خانہ کعبہ میں جاکر ا علان کیا کہ لوگو گواہ رہنا میں نے زید کو آزاد کیا۔یہ میرا بیٹا میرا وارث ہے " اس کے بعد سے زید - تریدین محمد کہلانے لگے کہ یہ منظر دیکھ ان کے والدا در چھا کو یقین آگیا کہ زید نے صحیح بات کی ہے۔یہ انسان واقعی اس قابل ہے کہ اس کی خدمت کرنا آزادی سے بہتر ہے۔اس سلوک کی وجہ سے زید کے باپ اور چھا خوش خوش مطمئن اپنے گھروں کو ٹوٹ گئے سکے لیکن جب اسلام کی تعلیم آئی اور خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ بچوں کو ان کے باپوں کے ناموں سے پکار دے تو پھر سے زید۔زید بن حارثہ کہلانے لگے۔بچہ اتنی ہمارا پیارا آقا کتنا پیارا تھا کہ سب سے پیار کرتا۔سب کے دُکھ میں ه الله سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۴۴ - ۵۵ سوره احزاب رکوع ۶ 4