ولادت سے نبوت تک — Page 70
جسے راجگیروں نے رد کر دیا پھر مدیث میں آتا ہے کہ میں نبوت کی عمارت کا آخری پتھر ہوں ، گویا اللہ تعالیٰ نے حقیقت کی نگاہ سے سارے سرداروں کو دکھا دیا کہ اسی کیلئے تکمیل دین ہوگی۔شریعت کامل ہوگی۔اور آنے والے نبی کے لئے جو وعدے کئے گئے تھے۔یہ وہی ہے اس کو اچھی طرح پہچان لو۔پھر جب اس کا ظہور ہو اور یہ اعلان کرے تو نادانی نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے پرانی کتابوں کی پیشگوئیوں کے مطابق اس کو رد بھی کر دیا۔تب بھی خدا اس کے ذریعے سے نبوت کی عمارت جو ابھی مکمل نہیں ہوئی اس کو مکمل کر کے اس کی شان ظاہر کرے گا جس طرح اب تم پر ثابت ہو گیا کہ کتنے بڑے خون خرابے سے اسے مقدس یا برکت انسان میرے محبوب نے تم کو بچایا اور عبادت سے مرکز خانہ کعبہ کی تعمیر جو رک گئی تھی یہ تعمیر دوبارہ اسی کے پر حکمت فیصلہ سے شروع ہوئی۔بچہ قریش تو بہت خوش ہوئے ہوں گے ؟ ماں خوش بھی تھے اور حیران بھی کہ اتنا بڑا مسئلہ انتی آسانی سے حل ہو گیا۔اور ہمارے پیارے آقا حضرت محمد تو سب کے لئے ہی رحمت کا باعث تھے۔ان ہی دنوں کی بات ہے کہ حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام جو پیارے آقا کے بھی دوست تھے، تجارت کی غرض سے عکاظ کے میلے میں گئے۔وہاں انہوں نے چند غلام خریدے اور ایک سمجھدار شریف لڑکا جس کا نام زید بن حارثہ تھا اپنی پھوپھی کو دیا۔ه زیور ، ۱ آیت ۲۲ - سیرت خاتم النبلتين جداول صفحه ۱۴۷ نے سیرت النبی مشبلی نعمانی جلد اول صفحه ۵ ۱۸ حاشیه