ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 67 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 67

44 کی۔نہ ہی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی۔جیسے ہی حضرت خدیجہ نے آپ کو سب چیزوں کا مالک بنایا۔آپ نے اپنے اندر کی خواہش کہ انسان آزاد ہے۔اس کو آزاد رہنے کا حق ہے کے مطابق سب کو آزاد کر دیا۔پھر دولت کے بارے میں آپ کا نقطہ نظریہ کہ اس پر صرف اسی انسان کا اختیار نہیں ہے جس کے پاس ہے بلکہ اس پر اوروں کا بھی حق ہے۔چنانچہ آپ کے اخلاق کا یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ آپ کھڑے بانٹ رہے ہیں اور خالی ہاتھ گھر آگئے۔ان ہی اداؤں نے تو قریش مکہ کو ہر لحاظ سے آپ کا گرویدہ بنا دیا۔پھر کوئی نہ کوئی انوکھا واقعہ بھی ہو جاتا تھا جو آپ کی عزت کو بڑھانے کا سبب بن جاتا۔بچہ اس زمانے میں کیا واقعہ ہوا۔ماں آپ کے لڑکپن کے واقعات میں جب ہم خدائی حفاظت اور تربیت کی بات کر رہے تھے تو تعمیر کعبہ کا ذکر آیا تھا بچہ تعمیر کعبہ کے وقت آپ کی تشرم وحیا کا ذکر آپ نے بتایا تھا۔ماں با لکل ٹھیک۔آپ کو تو سب یاد ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے حافظے میں اور برکت دے۔ہاں تو میں بتا رہی تھی۔کعبہ کی تعمیر آہستہ آہستہ ہوتی رہی کبھی سامان کم پڑ جاتا کبھی ماہر مزدور نہ ملتے۔اور کبھی قریش کی لڑائیاں جھگڑے فساد۔ان سب باتوں نے تعمیر کعبہ میں زیادہ وقت لگا دیا۔مگر جب کام اس مقام پر پہنچا جہاں پر حجر اسود کو لگا نا تھاتا کہ باقی کام آگے شروع ہوا اس موقع پر ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس نیک کام کو وہ انجام دے چنانچہ اس سعادت کو حاصل کرنے کے لئے باہم جھگڑے کی نوبت آگئی۔