ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 66 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 66

44۔آپ کے چھا کے بہت سے بچے تھے۔آپ کو ہمیشہ اس بات کا دمعیان رہتا کہ چا کے گھر پر پریشانی نہ ہو۔پھر اپنے چاجس نے اولاد سے زیادہ پیار کیا۔آپ کیسے انہیں چھوڑ سکتے تھے۔ادھر حضرت خدیجہ نے بھی بہت دھیان رکھتی تھیں۔بچہ ابھی تک قریش مکہ نے آپ کے بچپن لڑکپن اور جوانی کی خوبیاں دیکھی تھیں۔وہ تو ان سے ہی بہت متاثر تھے۔اور آپ کی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ جو آپ میں خوبیاں ظاہر ہو رہی تھیں وہ بھی آپ کی عزت بڑھانے میں مدد دیتی تھیں۔لیکن اتنی ساری دولت ملنے کے بعد بھی آپ کا وہی سادہ انداز اور کمزور اور غرباء سے ہمدردی ، پھر عورت کا احترام جو اس زمانے میں بالکل نہیں تھا۔کیا وہ جبران نہیں ہوتے تھے ؟ ماں آپ تو ماشاء اللہ بڑی سنجیدگی سے تاریخ پر غور کر رہے ہیں۔قریش مکہ گھر کے پر سکون ماحول پر ضرور حیران تھے۔پھر جو عزت آپ نے حضرت خدیجہ کو دی۔اس پر تو ان کو یقین ہی نہ آتا تھا اور سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ آپ نے ساری زندگی ماں باپ کے بغیر گزاری کسی سے کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جوملا اس پر شکر ادا کیا۔اور نہ ملنے کا کبھی گلہ نہ کیا۔لیکن جب اتنی دولت اور لونڈی غلام مل جائیں اور اتنی دولت مند عورت خود شادی کی خواہش کرے جس سے مکہ کا ہر بڑا سردارہ نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایک لمحے کے لئے اگر ہم سوچیں تو ہماری عقل بھی حیران ہو جاتی ہے۔لیکن آپ نے اس یکدم تبدیلی کا کوئی اثر نہ لیا۔بلکہ وہی معصومانہ اندازہ نہ کوئی انوکھی حرکت