ولادت سے نبوت تک — Page 64
۶۴ بچہ حضرت خدیجہ نے آپ کو کچھ نہیں کہا۔کیونکہ وہ تو بہت امیر خاتون تھیں اور اب تو ان کو خود کام کرنا پڑتا ہوگا۔ماں حضرت خدیجہ نے پیارے آقا محمد کو ان کی پیاری عادتوں اور مکہ کے نوجوانوں سے مختلف مشاغل رکھنے کی وجہ سے پسند کیا تھا۔پھر وہ ان کی نیکی شرافت کی سبھی قائل تھیں۔اس کے علاوہ جب میسرہ نے آپنے کو سفر کے حالات بتائے تو حضرت خدیجہ اپنے چا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔اور ان سے ساری باتیں کہہ دیں۔ورقہ بن نوفل توریت اور انجیل کے عالم تھے۔انہوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔اور وہ بھی دوسرے عالموں کی طرح ان باتوں کو سن کر پہچان گئے۔کیونکہ یہ وقت ایک نبی کے ظہور کا زمانہ تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی بہن کو کہا۔کہ یہ ایک نبی کے ظہور کا زمانہ ہے اور یقیناً محمد اس زمانے کے نبی ہیں۔ان کا بہت جلد ظہور ہونے والا ہے۔اور میں اس بڑے مرتبہ اور شان والے نبی کا شدت سے انتظار کر رہا ہوں پھر وہ خود بھی تو بڑی نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔وہ اچھی طرح جان چکی تھیں کہ انہوں نے ایک عظیم الشان شخص سے شادی کی ہے۔تو پھر الہ دولت کی کیا پرواہ۔وہ تو پیارے آقا حضرت محمد کی خدمت کرنا۔ان کو آرام پہنچانا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔اور اسی کو وہ اپنی خوش نصیبی بھی جانتی تھیں۔بچہ پیارے آقا حضرت محمد نے حضرت خدیجہ کے ساتھ کیسا سلوک کیا ؟ له سیرت ابن ہشام جلد اول صفحه ۱۲۳