ولادت سے نبوت تک — Page 35
۳۵ ہے۔چنانچہ حضرت ابو طالب آپ کو لے کر جلد مکہ پہنچے۔بچہ کسی اور نے تو آپ کو اس سفر میں نہیں پہچانا۔ماں ایک اور روایت ہے کہ اسی سفر میں زربر ( زبیر) تماما تمام) اور در لیسار در لیس، جو یہودی تھے انہوں نے بحیرہ کی طرح آپ کو پہچان لیا تھا اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے تھے۔انہوں نے آپ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن بحیرہ نے ان کے ارادہ کو بھانپ لیا اور انہیں نصیحت کی۔ساتھ ہی کہا۔کیا تم نے اپنی کتابوں میں اور ا نہیں پڑھا کہ خدا اس کی حفاظت کرے گا۔اور تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔اس لئے ایسا نہ کرو۔ورنہ خود ہی الہی غضب کا شکار ہو جاؤ گے۔چنانچہ یہ سن کر وہ رک گئے۔بچہ اتنی کمال ہے۔اتنی چھوٹی عمر میں بھی نشانیاں پوری ہو رہی تھیں بلکہ کے لوگ تو بتوں کی پوجا کرتے تھے۔پھر آپ نے جو لات و عزی کی قسم کو نہیں مانا۔تو کیا آپ نے کبھی بھی کسی بت کی پرستش نہیں کی ؟ ماں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کو شرک سے محفوظ رکھا۔اور یہی تو وہ باتیں مفتیں جن سے اہل علم ، اہل کتاب آپ کو پہچان لیتے تھے۔میں آپ کو بتوں کی پرستش نہ کرنے کا ایک بڑا مشہور واقعہ جو آپ کی زندگی میں پیش آیا ، بتاتی ہوں۔بچہ پیاری امی ضرور بتائیں۔ے رسول نمبر جلد 1 صفحہ ۷۰