ولادت سے نبوت تک — Page 34
بچہ اس نے آپ سے کوئی بات نہیں کی ؟ ماں اس نے آپ کو لات اور عزیٰ کی قسم دے کر کچھ باتیں پوچھنا چاہیں۔وہ جانتا تھا کہ قریش ان دونوں بتوں کی قسم کھاتے ہیں۔لیکن اس چھوٹے سے بچے نے فوراً جواب دیا کہ مجھے ان سے سخت نفرت ہے۔ان کی قسم نہ دیں یہ پھر اس نے کہا کہ اللہ کی نہ۔ہوئیں پوچھوں مجھے اس کے بارے میں بتاؤ۔وہ آپ سے آپ کی عادتوں سونے جاگنے وغیرہ کے متعلق پوچھتارہا۔اور ہر بات نشانیوں کے مطابق تھی۔جب آپ کی ذات کے متعلق اس کی مکمل تسلی ہوگئی تو پھر اس نے حضرت ابو طالب سے پوچھا کہ اس بچے کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے۔وہ بولے۔یہ میرا بیٹا ہے۔راہب نے فوراً کہا کہ اس کا باپ تو زندہ نہیں۔یہ آپ کا بیٹا نہیں ہے۔ابو طالب نے حقیقت بیان کی کہ یہ میرے بھائی کا بیٹیا ہے۔وہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پاچکے ہیں۔بچہ اب تو را مہب کو یقین ہو گیا ہوگا کہ یہی بچہ بڑا ہو کر وہی عظیم نبی ہوگا ماں وہ پوری طرح پہچان چکا تھا۔بحیرہ نے حضرت ابو طالب سے کہا کہ اپنے اس بھتیجے کو لے کر فورا گوٹ جائیں کیونکہ اگر یہودیوں نے دیکھ لیا اور ان نشانیوں کو پہچان لیا۔تو وہ اس بچے کو نقصان پہنچائیں گے۔آپ اہل کتاب سے اس کو بچائیں ، کیونکہ وہ تمام نشانیاں جانتے ہیں۔آپ کا بھتیجا بڑی عظمت والا ہے کہ اس کا ظہور ہونے والا ا نقوش رسول نمبر جلد 11 1-2 سے سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحه ۱۱۸