ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 26 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 26

A تھا کہ بچوں کے ماں باپ ہوتے ہیں۔دادا دادی ہوتے ہیں، نانا نانی ہوتے ہیں جبکہ یہ سب سے زیادہ پیار کرنے والے رشتے ہیں پھر یہ پرورش کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت کی بھی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ میرا محمد ہے۔میں خود اس کی تربیت کروں گا۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے محمد کی تربیت کی۔بلکہ سارے پیارے میرے پاس آگئے۔میں ہی اس کو پیار بھی کروں گا۔اس کو سنبھالوں گا۔ہر جگہ اس کی حفاظت کروں گا۔اس کو معاشرے کی برائیوں سے بچاتے ہوئے اچھائیوں کی طرف لے جاؤں گا۔اور آہستہ آہستہ ساری خوبیاں جو اس پیارے وجود میں جمع کی ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر بھی کروں گا تاکہ دنیا خود اندازہ کرے کہ یہ عام انسان نہیں۔بچہ امی جو بچے اپنے پیاروں سے جدا ہو جاتے ہیں۔ان کی طبیعت پر بھی تو اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہوں گے۔ماں یقیناً اس کے اثرات ہوتے ہیں جو بعد میں فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں۔کیونکہ وہ بچے جو بار بار اپنے پیاروں سے بچھڑتے رہتے ہیں پھر وہ کبھی کسی کی محبت میں بھی کسی کی نگرانی میں رہتے ہیں ، تو ان میں دو باتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔یا تو وہ سخت مندی اور بدتمیز بن جاتے ہیں۔یا پھر خوف مایوسی حسرت کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور یہ دونوں ہی احساس برتری یا احساس کمتری (complex) کا نمونہ ہیں جو ایک انسان کو کامیاب انسان نہیں بناتے لیکن ان حالات سے گزرنے کے باوجود نہ تو آپ مندی تھے ، نہ مایوسی یا بے چارگی کا شکار۔بلکہ چہرے پر ہمیشہ اطمینان اور سکون ہی رہتا۔یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ