ولادت سے نبوت تک — Page 25
۲۵ کو میرے پاس لاؤ۔اور جب تک آپ آ نہیں جانتے کھانا نہیں کھاتے تھے۔آپ کو اپنی نظروں سے بھی اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔کہا کرتے۔دادا کی جان میرے سامنے رہا کرو۔ورنہ پریشان ہو جاتا ہوں " قریش کے لوگ کہتے کہ آپ کا اپنا بیٹا حمزہ بھی تو محمد کی عمر کا ہے۔اس کے لئے کبھی پریشان نہیں ہوئے تو فوراً بول پڑتے امد محمد کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔یہ شان والا ہے ؟ اور آپ بھی دادا کے ارد گرد رہتے۔پیار کرتے ہر بات مانتے۔بچہ آپ اپنے دادا کے ساتھ کتنا عرصہ رہے۔ماں اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا جان کو جب ان کی عمر ۸۲ برس ہوئی تو اپنے پاس بلا لیا۔اس وقت پیارا محمد صرف آٹھ سال کا تھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ دادا کی وفات کا آپ کو بے حد صدمہ تھا۔جب ان کا جنازہ اٹھا تو مقدس پوتا پیچھے پیچھے چلتا جاتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے بچہ امی آپ تو کہتی ہیں کہ اللہ میاں کو اپنے اس شہزادے سے سب سے زیادہ پیار تھا تو پھر کیوں بار بار اس سے پیار کرنے والوں کو اپنے پاس بلا کر اس نے بیچنے کو رلاتا رہا۔آخر اس کو بھی تو اپنی امی۔اور دادا جان یاد آتے تھے۔ماں میری جان! سوال تو آپ نے بڑا ہی مشکل کر دیا۔ان باتوں کی وجہ سے اللہ میاں کی محبت میں کمی ظاہر نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ آپ کو ستانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔بلکہ وہ دنیا کے لوگوں دکھانا چاہتا مله سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحہ ۱۲۸