ولادت سے نبوت تک — Page 24
۲۴ ایک لمبا عرصہ رہیں۔اور آپ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہیں۔بچہ جب آپ اپنے دادا جان سے ملے تو کیا حال ہوگا۔ماں آپ خود سوچ لیں کہ چار سال کا بچہ جس کی ماں راستے میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔اس کا کیا حال ہو گا۔آپ کے دل پر بچپن کے ان ہی صدمات کا اثر معلوم ہوتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے بھی آپ کے دل میں کمزوروں ، بیواؤں، یتیموں کے لئے بے پناہ ہمدردی ڈال دی تھی۔اسی لئے ساری زندگی کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ہر ایک کی ہمدردی ہر ایک سے پیارا لوگوں کے دکھ کو بانٹ لینا آپ کی فطرت بن گئی تھی۔بچہ آپ اپنے دادا جان کے ساتھ کیسے رہتے تھے۔کچھ اس زمانے کی باتیں بھی تو بتائیں۔ماں کیوں نہیں۔یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ آپ کے دادا جان اپنے پوتے محمد سے بہت پیار کرتے تھے۔اب جبکہ ماں بھی نہیں رہیں تو ساری توجہ آپ پر تھی۔خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کندھے پر بٹھالیتے خانہ کعبہ کے سائے میں جو مسند سردار قریش کے لئے بھائی جاتی اس پر بیٹھنے کی کسی کو جرات نہ تھی۔اور پیارا پونا جب دادا کو دیکھتا تو دوڑ کر اس پر آبیٹھتا۔چار دیکھتے یا کبھی کوئی اور منع کرتا تو فورا عبدالمطلب ٹوک دیتے کہ اس کو کچھ نہ کہو۔اور اکثر آپ کو اپنی گود میں بٹھائے بٹھائے مسائل حل کرتے رہتے۔اکثر کہتے کہ یہ میرا بیٹا ہو نہار اور صاحب شان ہے۔اور جب کھانا کھانے بیٹھتے اور آپ پاس نہ ہوتے تو کہتے میرے بیٹے لے سیرت خاتم النبیین جلد اول سے ۱۲ ابن ہشام جلد اول صفحه ۱۱۴