ولادت سے نبوت تک — Page 65
40 ماں آپ نے ان کے ساتھ بہت محبت کی کبھی اپنے کاموں کا ان پر بوجھ نہیں ڈالا۔اپنے کپڑے خود درست کر لیتے۔جوتوں کی مرمت کرتے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے۔لکڑیاں لاتے ، ایک دوسرے سے مشورہ کرتے۔پھر جب حضرت خدیجہ کی طبیعت خراب ہوتی تو ان کی خدمت کرتے سر دباتے۔ان کئے شتہ دار کو کا بہت احترام کرتے اور جب تک وہ زندہ رہیں آپنے کو کبھی بھی اپنے مقدس شوہر سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی آپ بڑی محبت اور احترام سے حضرت خدیجہ کا ذکر فرماتے تھے۔بچہ کیا اللہ میاں نے آپ کو بچے بھی دیئے ؟ ماں آپ کے سب سے بڑے بیٹے قاسم پیدا ہوئے۔اسی لئے پیارے آقا کی کنیت ابوالقاسم ہے۔دو اور بیٹے طبیب اور طاہر ہوئے۔لیکن تینوں لڑکے بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔سب سے بڑی بیٹی زینب تھیں پھر رقیہ" پھر ام کلثوم اور سب سے چھوٹی حضرت فاطمہ نہیں۔یہ سب زندہ رہیں۔اسلام قبول کیا لیکن صرف حضرت فاطمہ کی نسل چلی۔باقی کی اولادیں فوت ہوتی ہیں۔رض بچہ کیا پیارے آقا اپنے چچا ابو طالب کے پاس جاتے تھے ؟ ماں آپ کو تو اپنے چچا سے بے حد پیار تھا اور ان کے بچوں سے بھی۔پھر اپنی چچی کی بھی خدمت کرتے تھے۔ان کا بہت احترام کرتے۔گھر میں کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو اس کو پورا کرتے۔ه سیرت خاتم النبيين جلد اول