وحی و الہام

by Other Authors

Page 32 of 76

وحی و الہام — Page 32

32 خان صاحب نے یہ کیا ہے: وو و آنکه بر آلننه عامه مشهور شده که نزول جبر انیل بسوئے ارض بعد موت رسول خدا صلعم نشود بے اصل محض است۔‘ ( حج الکرامہ صفحہ 431) طور کہ یہ حدیث کہ میرے بعد کوئی وحی نہیں باطل ہے ( موضوع ہے ) اور یہ جو عام مشہور ہے کہ جبرائیل وفات نبوی کے بعد زمین پر نازل نہیں ہوں گے اس کی کوئی بنیاد نہیں۔۔پھر ایک اور حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ جبرئیل نازل ہوتا رہتا ہے اور اس کا نزول بند نہیں ہوا۔حضور ﷺ نے فرمایا: مَا أُحِبَّ أَنْ يَرْقُدَ الْحَنْبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَوَفَّى وَ مَا يَحْضُرُهُ جِبْرِيلُ فَدَلَّ عَلَىٰ أَنَّ جِبْرِيلَ يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ وَ يَحْضُرُ مَوْتَ كُلِّ مُؤْمِنٍ تَوَفَّاهُ اللَّهُ وَ هُوَ عَلَى طَهَارَةِ “ (الفتاوى الحديثية صفحه 230 مطلب: فى ان جبريل يعصد الموتى - صفحه 243 مطلب : خبر لا وحی بعدی باطل ) کہ میں پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص وضوء بغیر سو جائے ، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مرجائے گا تو جبرئیل اس کے پاس نہیں آئے گا۔پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ جبرائیل زمین پر اترتا ہے اور ہر مومن کی موت کے وقت اگر وہ با وضو ہو تو وہ حاضر ہوتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ وحی سے حصہ پاتی رہے گی۔ہاں اگر وہ اپنے فرض سے غافل ہو جائے تو پھر وہ نعمت اس سے چھین لی جائے گی۔آپ کے الفاظ یہ ہیں: