وحی و الہام

by Other Authors

Page 24 of 76

وحی و الہام — Page 24

24 5 وحی کی ضرورت و اہمیت وجی کا فائدہ تو دراصل وہی ہے جو حضرت مسیح موعود ال نے بیان فرمایا ہے جو اس مضمون کے شروع میں آپ کی مبارک تحریر میں درج کیا جا چکا ہے۔اسی طرح اس مضمون کے آخر میں آپ کے اشعار بھی پیش کئے جائیں گے جو وحی کی اہمیت اور اس کی۔یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ امام رازی کیا فرماتے ہیں: " إِنَّ حَيَاةَ الْأَرْوَاحِ بِالْمَعَارِفِ الْإِلَهِيَّةِ وَالْجَلَايَا الْقُدْسِيَّةِ فَإِذَا كَانَ الْوَحْيُ سَبَبًا لِحُصُولِ هَذِهِ الْأَرْوَاحِ سُمِّيَ بِالرُّوْحِ فَإِنَّ الرُّوْحَ سَبَبُ لِحُصُوْلِ الْحَيَاةِ وَالْوَحْيُ سَبَبٌ لِحُصُولِ هَذِهِ الْحَيَاةِ الرُّوْحَانِيَّةِ “ (التفسير الكبير جزء 27 صفحہ 39 زیر آیت ” يلقى الروح “سورۃ الشورای ) کہ روحیں معارف الہیہ اور جلو ہائے قدسیہ کے ذریعہ زندہ ہوتی ہیں پس چونکہ وحی کے ذریعہ روحوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے اس لئے اسے روح کا نام دیا گیا ہے کیونکہ جیسے روح اس جسمانی زندگی کا سبب ہے۔وحی اس کی روحانی زندگی کا باعث ہے۔یعنی وحی امت کے لئے روح یعنی زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔دراصل نبی کی بعثت کی اغراض ہی وحی کے نزول کی اغراض ہیں، مثلاً نبی خدا تعالیٰ کی آیات اور معجزات اپنے ساتھ لاتا ہے تا کہ لوگوں کو ایمان اور یقین محکم حاصل ہو کہ ان کا ایک قادر خدا موجود ہے اور یہ آیات بذریعہ وحی ہی نازل ہوتی ہیں۔” فَمَوْقِعُ الْآيَاتِ مِنَ الْأَدْيَانِ كَمَوقِعِ الْأَرْزَاقِ مِنَ الْأَبْدَانِ فَالْآيَاتُ لِحَيَاةِ الْادْيَانِ وَالْأَرْزَاقِ لِحَيَاةِ الْأَبْدَانِ۔“ (ايضضًا - صفحہ 38)