وحی و الہام — Page 66
99 66 حسب المنز لہ اس شخص کو نصیب ہوگا اور اس امرونہی وغیرہ میں اس کو آنحضرت ﷺ کے حال میں شریک سمجھا جائے گا۔(اثبات الالہام والبیعۃ صفحہ 143-142) و و حضرت مسیح موعود اللہ فرماتے ہیں: ” جب مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہوئی تو انسانوں پر جو وحی ہوتی ہے وہ کیسے منقطع ہو سکتی ہے۔ہاں فرق یہ ہے کہ ال کی خصوصیت سے اس وحی شریعت کو الگ کیا جاوے ورنہ یوں تو ہمیشہ ایسے لوگ اسلام میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جن پر وحی کا نزول ہو۔حضرت مجد دالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس وحی کے قائل ہیں اور اگر اس سے یہ مانا جاوے کہ ہر ایک قسم کی وحی منقطع ہو گئی ہے تو یہ لازم آتا ہے کہ امور مشہودہ اور محسوسہ سے انکار کیا جاوے۔اب جیسے کہ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ وحی نازل ہوتی ہے۔پس اگر ایسے شہود اور احساس کے بعد کوئی حدیث اس کے مخالف ہو تو کہا جاوے گا کہ اس میں غلو ہے۔خود غزنوی والوں نے ایک کتاب حال میں لکھی ہے۔جس میں عبد اللہ غزنوی کے الہامات درج کئے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 121) اس کے بعد نمونہ چند آیات قرآنیہ ملاخطہ فرمائیں جن میں خالصہ آنحضرت کو خطاب ہے لیکن وہ آپ کے امتیوں پر بھی الہام کی گئیں۔(1) مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کی سوانح میں درج الہامات سے چند مثالیں: نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْری بار ہا الہام ہوئی۔(صفحہ 5) وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَالَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَ كَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وِلِيٌّ وَّلَا