وحی و الہام — Page 59
59 ثابت ہے اور اُس کو وحی کہتے ہیں اور اگر ان کے بغیر کسی اور سے ثابت ہو تو اسے تحدیث کہتے ہیں۔اور کہیں کتاب اللہ میں مطلق الہام کو ( خواہ انبیاء کو ہو یا اولیاء کو ) وحی کہا گیا ہے۔(اردو ترجمہ از حکیم محمد حسین علوی صفحہ 39 مطبوعہ 1949 گیلانی پریس لاہور ) ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے اولیاء اللہ کو مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کی نعمت سے محروم نہیں کیا گیا۔پس صحابہ کرام کو بھی مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے محروم تصور نہیں کیا جا سکتا۔گوان کے الہامات محفوظ رکھنے کا اہتمام نہیں کیا گیا پھر بھی بعض الہامات ایسے ملتے ہیں جن سے یہ بالبداہت معلوم ہو جاتا ہے کہ صحابہ کرام کو بھی خدا کی ہمکلامی کا شرف ضرور عطا کیا گیا تھا۔صلحائے امت میں وحی کے چند اور نمونے (۱) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے متعلق الاستاد عبدالحمید آساہانی نے اپنی کتاب المطالب الجمالیہ“ میں لکھا ہے: فَرَأَى الشَّافِعِيُّ رضى الله عنه اللهَ سُبْحْنَهُ وَ تَعَالَىٰ فِي النَّوْمِ وَ هُوَ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ أُثْبُتْ عَلَى دِينِ مُحَمَّدٍ وَ إِيَّاكَ إِيَّاكَ أَنْ تَحِيْدَ فَتَضِلَّ وَ تُضِلَّ أَلَسْتَ بِاِمَامِ الْقَوْمِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكَ مِنْهُ إِقْرَأْ إِنَّا جَعَلْنَا فِي إِعْنَاقِهِمْ أَغْلَا لَّا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ - قَالَ الشَّافِعِيُّ فَاسْتَيْقَظْتُ وَ أَنَا أَقْرَأَهَا مِنْ تَعْلِيْمٍ الْقُدْرَةِ الدَّيَّانِيَّةِ۔“ (صفحہ 23 مطبوع مصر 1344ھ) کہ حضرت امام شافعی نے خواب میں خدا تعالیٰ کو دیکھا۔آپ اس کے سامنے کھڑے تھے سوخدا نے آپ کو پکارا: اے محمد ( بن ادریس الشافعی ! محمد ﷺ کے دین پر