وحی و الہام

by Other Authors

Page 40 of 76

وحی و الہام — Page 40

40 عَلَيَّ وَ اَنْتَ فِي ذلِكَ تَسْكُتُ فَقُلْتُ يَا رَبِّ شَرَّفْتَ الْأَنْبِيَاءَ بِكُتُبِ أَنْزَلْتَهَا عَلَيْهِمْ فَشَرِّفْنِي بِكَلَامٍ مِنْكَ بِلَا وَاسِطَةٍ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ : مَنْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْهِ فَقَدْ أَخْلَصَ لِى شُكْرًا وَ مَنْ أَسَاءَ إِلى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهِ فَقَدْ بَدَّلَ نِعْمَتِي كُفْرًا۔“ ( نزهة المجالس و منتخب النفائس جزء اول باب الحلم والصفح عن عثرات الاخوان ) یعنی حضرت عمرہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو خواب میں دیکھا تو اس نے فرمایا: اے ابن الخطاب ! کچھ مانگ !! میں چُپ رہا تو اس نے دوبارہ فرمایا : اے ابن الخطاب! میں تیرے سامنے اپنا ملک اور حکومت پیش کر رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے کسی چیز کی خواہش کر اور تو خاموش بیٹھا ہے؟ اس پر میں نے عرض کی اے میرے رب ! تو نے انبیاء کو ان پر کتا بیں نازل فرما کر ( اپنے کلام سے ) مشرف کیا ہے مجھے بھی اپنے کلام بلا واسطہ سے نواز ، تو خدا تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن الخطاب ! جو بھلا کرے اس شخص کا جس نے اسے دُکھ دیا ہو تو اس نے یقیناً میرا حقیقی اور خالص شکر ادا کیا اور جو شخص اس شخص کو دکھ دے جس نے اس کا بھلا کیا ہو تو اس نے میری نعمت کو کفر سے تبدیل کر دیا۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے پاک مقرب بندوں سے خواہ وہ نبی ہوں یا نہ محبت سے گفتگو کرتا ہے۔:4 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو خدا تعالیٰ نے جس قدر علم و عرفان سے نوازا تھا وہ ظاہر و باہر ہے۔آپ جیسی معتبر و پر منافقین کو جھوٹا اتہام لگانے کا موقع ہاتھ آگیا تو آپ کو جب اس کی خبر پہنچی کہ بعض منافقین آپ کی ذات بابرکت پر گندے الزام لگا رہے ہیں تو آپ کو بہت رنج پہنچا کھا نا پینا چھوٹ گیا اور زندگی تلخ ہوگئی ،اپنے ربّ کے سامنے گڑ گڑاتی رہیں اور مدد کی درخواست کرتی رہیں۔آپ کے درد اور ڈکھ کو کو دیکھ کر خواب میں