وحی و الہام — Page 21
21 ہیں۔پس جیسے ان کو سچی خوا ہیں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو ہو سکتے ہیں حتی کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الہی ایسی شئے ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لئے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُون (تم اسجدہ: 31) یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا صرف ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔وحی ہی وہ شئے ہے کہ جس سے انا الموجود کی آواز کان میں آکر ہر ایک شک وشبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل کا انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا۔لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحب کشف ایک دہریہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن صاحب وحی کبھی دہر یہ نہیں ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 320 تا 322)