وحی و الہام — Page 68
68 80 كَوْنِهِ مَحْفُوظًا لَّهُمْ وَلكِنْ لَّهُمْ ذَوْقُ الْإِنْزَالِ وَهذَا لِبَعْضِهِمْ “ (الفتوحات المكية جلد 2 صفحه 287) کہ باقی رہا غیر تشریعی الہام تو وہ ممنوع نہیں ہے اور نہ ایسا الہام ممنوع ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کسی پہلے ثابت حکم کی شناخت کرائے یا کسی حکم کے فساد یا خرابی کو ظاہر کرے۔یہ دونوں قسم کے الہام منقطع نہیں۔ایسا ہی قرآن کریم کا نزول اولیاء کے قلوب پر منقطع نہیں۔باوجود یکہ قرآنِ مجید اپنی اصلی صورت میں محفوظ ہے۔لیکن اولیاء کو نزولِ قرآنی کا ذوق عطا کرنے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔اور ایسی شان بعض کو عطا کی جاتی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ال پراگر اوامر ونواہی والی وحی بطور تجدید دین اور بیانِ شریعت نازل ہو تو اس سے شریعت جدیدہ کا دعوی لازم نہیں آتا۔آپ جب قرآن مجید کو ربانی کتابوں کا خاتم یقین کرتے ہیں تو آپ کو تشریعی نبوت کا مدعی قرار دینا درست نہیں۔شریعت جدیدہ کے مدعی کو تو ترمیم و تنسیخ کا حق ہوتا ہے مگر آپ تو صاف فرماتے ہیں: ”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔جھوٹی گواہی نہ دو۔زنانہ کرو۔خون نہ کرو۔اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“ اربعین نمبر ۴ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 436)