وحی و الہام — Page 51
51 إِلَيْكِ بجذع النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبَاً جَنِيّاهِ فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّكُ عَيْنًا فَإِمَّا تَرَينَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً فَقُولِى إِنِّى نَذَرُتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْماً فَلَنْ أُكَلَّمَ الْيَوْمَ إِنسِيّاً ه (سورۃ مریم آیت: 25 تا 27) جب ( ایک پکارنے والے نے ) اسے اس کے زیریں طرف پکارا کہ کوئی غم نہ کر۔تیرے رب نے تیرے نشیب میں ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔اور کھجور کی ساق کو تو اپنی طرف جنبش دے وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجور میں گرائے گی۔پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر اور اگر تو کسی شخص کو دیکھے تو کہہ دے کہ یقیناً میں نے ٹمن کے لئے روزہ کی منت مانی ہوئی ہے۔پس آج میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی۔یہ کیسی تفصیلی اور طویل وہی ہے جو حضرت مریم کو ہوئی اور اس کا حرف حرف یقینی اور سچا ثابت ہوا۔(۳) ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت عیسی ال مبعوث ہوئے اور یہود نے آپ کی سخت مخالفت کی تو خدا تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دلوں میں وحی نازل فرمائی اور اس وحی کا اتنا اثر ہوا کہ وہ حضرت عیسی اللہ پر ایمان لے آئے ، فرمایا: وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِى قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدُ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ“ (سورة المائدة: 112) اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے ، پس گواہ رہ کہ ہم فرمانبردار ہو چکے ہیں۔اس مخالفت کے زمانہ میں جبکہ حضرت عیسی ال بظاہر بے کس و بے بس تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی تائید میں لوگوں کے دلوں میں وحی نازل فرمائی۔جس کا اثر یہ ہوا کہ