وحی و الہام — Page 44
44 میرے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے اور مجھے باقی عمر محفوظ رکھ اور مجھے ایسے پاکیزہ اعمال کی توفیق دے کہ تو ان کے ذریعہ مجھ سے راضی ہو جائے۔مجھ پر رحمت سے رجوع کر۔پھر ابی بن کعب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا ، وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔رض 8: عبد اللہ بن زید بن ربہ : حضرت عبد اللہ بن زید ال کورویا میں اذان سکھائی گئی۔اسی طرح حضرت عمرؓ کو بھی۔(مشکوۃ باب الاذان) نمونہ کے طور پر یہ چند حوالہ جات جو پیش کئے گئے ہیں۔یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم الہام کی نعمت سے محروم نہ تھے۔وہ بکثرت اللہ تعالیٰ کے اس انعام سے بہرہ ور تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا “ (سورۃ الانفال:13 ) ترجمہ: یعنی جب تیرا رب ملائکہ کی طرف وحی کر 669 رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں پس وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انہیں ثبات بخشو “ اس آیت سے ظاہر ہے کہ جہاد کے موقع پر اس میں شامل ہونے والے تمام صحابہؓ پر ملائکہ کا نزول ہوا اور انہوں نے وحی الہی کے مطابق مسلمانوں کو حوصلہ دیا اور ثبات بخشا۔و امام ابن حجر ایٹمی کہتے ہیں کہ آنحضرت ا کا بیٹا ابراہیم ( جو آیت خاتم النبین کے نزول کے بعد پیدا ہوئے ) نبی تھا اور پھر یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کی طرف حضرت جبرئیل ا وحی لے کر نازل ہوئے۔جس طرح جبرئیل حضرت عیسی ال پر ماں کی گود میں وحی لے کر نازل ہوئے اور حضرت یحی اللہ پر تین سال کی عمر میں نازل ہوئے۔لکھتے ہیں: "وَلَا بُعْدَ فِي الْبَاتِ التَّنُّبُوَّةِ لَهُ مَعَ صِغَرِهِ لِأَنَّهُ كَيْسَى الْقَائِلِ يَوْمَ وُلِدَ إِنِّي