وحی و الہام — Page 43
43 پھر ان سے ایک کلام کرنے والے نے گھر کے ایک طرف سے کلام کی۔صحابہؓ نے نہ جانا کہ وہ کون ہے۔اس نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو کپڑوں سمیت غنسل دو۔(اس روایت کی تخریج ابوداؤد، الحاکم اور بیہقی نے کی ہے اور ابونعیم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔) یہ ایسی شان اور طاقت کی وجی تھی کہ تمام صحابہ نے بغیر کسی شک اور شبہ کے اس آواز کو سچا یقین کیا اور اسے خدائی آواز اور الہی فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا۔7 حضرت ابی بن کعب : عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَبَيٍّ ابْنِ كَعْبٍ لَادْخُلَنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا صَلِّيَنَّ وَ لَأَحْمِدَنَّ اللهَ تَعَالَى بِمُحَامِدٍ لَمْ يَحْمِدْ بِهَا أَحَدٌ فَلَمَّا صَلَّى وَ جَلَسَ يَحْمِدُ اللهَ تَعَالَى وَيُثْنِي عَلَيْهِ إِذَا هُوَ بِصَوْتٍ عَالٍ مِنْ خَلْفٍ يَقُوْلُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ لَكَ الْحَمْدُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اغْفِرْ لِي مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي وَاعْصِمْنِي فِيْمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِكْ وَارْزُقْنِي أَعْمَا لا زَاكِيَةً تَرْضَى بِهَا مِنِّي وَتُبْ عَلَيَّ - فَأَتَى رَسُوْلَ اللهِ فَقَصَّ عَلَيْهِ فَقَالَ جِبْرِيلُ عليه السلام ـ (روح المعانی جلد 22 صفحہ 40 زیر تفسیر آیت خاتم النبین ) ترجمہ:۔حضرت انس سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے ابی بن کعب نے کہا میں مسجد میں ضرور داخل ہونگا پھر ضرور نماز پڑھونگا اور ضرور اللہ تعالیٰ کی ایسے محامد کے ساتھ حمد کروں گا کہ کسی نے ایسی حد نہ کی ہو۔جب انہوں نے نماز پڑھی اور خدا کی حمد کرنے کے لئے بیٹھ گئے تو ناگاہ انہوں نے پیچھے سے ایک شخص کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا۔"اے اللہ سب حمد تیرے لئے ہے ، ملک تیرا ہے،سب بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، سب امور کا مرجع تو ہے خواہ وہ امور ظاہری ہوں یا باطنی حمد تیرے لئے ہی ہے بے شک تو ہر شے پر قادر ہے۔