وحی و الہام

by Other Authors

Page 31 of 76

وحی و الہام — Page 31

31 6 نزول جبریل اللہ تعالیٰ کے مقربین پر جبریل کے نزول کی کیفیات کے ذکر میں حضرت امام رازی ” فرماتے ہیں: ا۔قَالَ الْمُفَسِّرُوْنَ إِنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ خَافَ عَلَى أُمَّتِهِ أَنْ يُصِيرُوا مِثْلَ أُمَّةٍ مُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ اللَّهُ لَا تَهْتَمَّ لِذلِكَ فَإِنِّي وَ إِنْ أَخْرَجْتُكَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا أَنَّى جَعَلْتُ جِبْرِيلَ خَلِيفَةً لَّكَ يَنْزِلُ إِلَىٰ أُمَّتِكَ كُلَّ لِيْلِةِ قَدْرٍ وَ يُبَلِّغُهُمُ السَّلَامَ مِنِّی۔“ (النفير الكبير جزء 3 صفحہ: 277) یعنی مفسرین کہتے ہیں کہ جب نبی کریم کو سی ڈ ر لاحق ہوا کہ آپ کی امت موسیٰ اور عیسی علیہما السلام کی امت کی طرح گمراہ ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تجھے اس بات کا فکر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر میں نے تجھے وفات دیدی تو میں جبرئیل کو تیرا خلیفہ مقرر کر دوں گا جو ہر لیلتہ القدر میں تیری امت کی طرف آیا کرے گا اور انہیں میری طرف سے سلامتی کا پیغام پہنچایا کرے گا۔“ مطلب ظاہر ہے کی جبرئیل جو خدا تعالیٰ کا کلام لاتا ہے اس کا نبی کریم ﷺ کے بعد زمین پر ائتر نا بند نہیں ہوا خصوصاً لیلۃ القدر کے موقع پر تو وہ ضرور آتا ہے۔۲۔حجر علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: " وَخَبُرُ لَا وَحْيَ بَعْدِي بَاطِلٌ وَمَا اشْتَهَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ لَا يَنزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلْعَمُ فَهُوَ لَا أَصْلَ لَهُ۔(روح المعانی جزء 22 صفحہ 41 زیر آیت خاتم النبیین۔الخصائص الکبرای صفحہ :243)۔اس مذکورہ بالا عبارت کا ترجمہ فارسی میں اہلحدیث کے عالم نواب صدیق حسن