وحی و الہام — Page 30
30 30 النَّاقِصِينَ ، وَ كَامِلَةٌ تَقْوَى عَلى تَكْمِيلِ النَّاقِصِينَ - ( فَا لَقِسُمُ الأَوَّلُ الْعَوَامُ ، ) 66 وَالقِسْمُ الثَّانِى ( هُمُ الْاَولِيَاءُ ، ( والقِسْمُ الثَّالِثُ هُمُ الْأَنْبِيَاءُ۔“۔التفسير الكبير جزء 27 صفحہ 108 سورة حم السجده زير آيت وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا ) کہ نفوس تین قسم کے ہوتے ہیں۔قسم اول ناقص لوگ اور قسم دوم وہ کامل لوگ ہیں جو دوسرے کی تکمیل نہیں کر سکتے اور قسم سوم وہ کامل لوگ جو دوسرے کو بھی کامل بنانے کی طاقت رکھتے ہیں۔(پہلی قسم ) عوام کی ہے (دوسری قسم ) اولیاء کی اور ( تیسری قسم ) انبیاء کی۔“ اب ذرا سوچئے کہ اگر نبی کریم ﷺ کی امت میں کوئی تیسری قسم کا آدمی نہیں ہے تو پھر اس امت کو افضل الامم کیونکر کہا جاسکتا ہے اور کیا یہ خیال کرنا کہ نبی کریم ﷺ کی امت ، تیسری قسم کے پاکباز انسان سے بکلی خالی ہے، حضور کی ہتک کے مترادف نہیں؟