وحی و الہام — Page 25
25 کہ دین میں آیات کی وہی حثیت ہے جو بدن میں کھانے پینے کی۔آیات دینی (روحانی) زندگی کے لئے ہیں اور رزق جسمانی زندگی کے لئے۔لکھتے ہیں: علامہ احمد الصاوی المالکی آیت کریمہ يُنَزِّلُ الْمَلِئِكَةَ بِالرُّوحِ “ کی تفسیر میں " و سُمِّيَ رُوحًا لِاَنَّ بِهِ حَيَاةَ الْقُلُوبِ النَّشِيُّ عَنْهَا السَّعَادَةُ الْأَبَدِيَّةُ وَمَنْ حَادَ عَنْهَا فَهُوَ هَالِكٌ كَمَا أَنَّ الرُّوحَ بِهَا حَيَاةُ الْاجُسَامِ وَهِيَ بِدُونِهَا هَالِكَةٌ۔“ (حاشیہ الجلالین جزء2 صفحہ 265 سورۃ الخل آیت:3) کہ وحی کو روح کا نام دیا گیا ہے کیونکہ دلوں کو اسی کے ذریعہ وہ زندگی حاصل ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سعادت ابدی ملتی ہے اور جو اس سے ہٹ گیا وہ تباہ و برباد ہوا جیسے کہ روح ہی سے اجسام کو زندگی ملتی ہے اور اس کے بغیر وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔اسی آیت کے متعلق امام رازی لکھتے ہیں: إِنَّ الْمُرَادَ مِنَ الرُّوحِ، اَلْوَحُى وَهُوَ كَلَامُ اللهِ (الغير الكبير جزء 19 صفحه 175) که روح سے مراد وحی اور خدا کا کلام ہے۔“ آپ مزید لکھتے ہیں : القُرانُ وَالْوَحْيُ بِهِ تَكْمُلُ المَعَارِفُ الإِلَهِيَّةُ وَالمُكَاشَفَاتُ الرَّبَّانِيَّةُ وَ هَذِهِ المَعَارِفُ بِهَا يُشْرِقُ العَقُلُ وَ يَصُفُو وَيَكْمُلُ ----- وَ عِندَ هَذَا يَظْهِرُ اَنَّ الرُّوحَ الحَقِيقِيُّ هُوَ الْوَحَى وَ القُرْآنُ۔“ ( تفسير سورة النحل آیت:3 ينزل الملائكة بالرّوح‘) یعنی قرآن اور وحی کے ذریعہ ہی معارف الہیہ اور مکاشفات ربانیہ کامل ہوتے ہیں اور انہی معارف کے ذریعہ عقل روشن، صاف اور کامل ہوتی ہے۔تو واضح ہو گیا کہ روحِ حقیقی ہی دراصل وحی اور قرآن ہی ہے۔