وحی و الہام

by Other Authors

Page 17 of 76

وحی و الہام — Page 17

17 کرنا کیونکہ جو چیز خدا کے پاس ہے وہ اس کی طاعت وفرمانبرداری سے ہی ملتی ہے۔نبی کریم ﷺ کے سامنے فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں متمثل ہو جاتا تھا اور (سوم) آپ سے باتیں کرتا تھا اور جو وہ کہتا تھا اسے نبی آپ یاد کر لیتے تھے ، اس صورت میں بعض اوقات صحابہ بھی فرشتہ کو دیکھ لیتے تھے۔(چهارم) د و وتی گھنٹی کی آواز میں آنحضرت ا ایک پہنچتی تھی اور یہ بخت ترین وحی ہوتی تھی اور اس میں فرشتہ بھی آپ کے ساتھ شریک ہوتا تھا، اسکی سختی کی وجہ سے سردی کے دن بھی آپ کے منہ پر پسینہ چھوٹ جاتا تھا اور اگر آپ سوار ہوتے تو اونٹنی بوجھ محسوس کر کے زمین پر بیٹھ جاتی تھی۔ایک دفعہ جب آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران زید بن ثابت کی ران پر تھی اور زید نے اس قدر بوجھ محسوس کیا کہ جیسے وہ بوجھ ان کی ران توڑ دے گا۔(پنجم) حضور کبھی فرشتہ کو اس کی اصل شکل میں دیکھتے تھے اور جو کچھ خدا تعالی چاہتا تھاوہ اس کی وحی آپ تک پہنچا دیتا تھا۔ایسا موقع صرف دو دفعہ پیش آیا جیسا کہ سورۃ النجم میں بیان ہوا ہے۔(ششم) وہ وحی جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر معراج کی رات نماز وغیرہ کی فرضیت کے متعلق اتاری تھی۔(ہفتم) خدا تعالیٰ کا وہ کلام جو کسی فرشتہ کی وساطت کے بغیر آنحضرت ﷺ تک پہنچا۔جیسے کہ اس نے موسیٰ بن عمران سے کلام کیا تھا اور یہ مرتبہ موسیٰ ال کے لئے قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے اسراء کی رات کو واقع ہوا تھا۔خدا تعالیٰ کا بغیر حجاب آمنے سامنے ہو کر آنحضرت ﷺ سے کلام کرنا۔یہ (هشتم)