وحی و الہام — Page 11
11 2 نزول وحی کا طریق نزول وحی کے طریق کی بابت خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ o وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِى بِهِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (سورة الشورى:53،52) کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر سے کلام نہیں کرتا مگر بذریعہ وحی یا پس پردہ یا وہ بھیجتا ہے کوئی ایلچی (فرشتہ ) جو اس کے اذن کے مطابق وحی کرتا ہے جو خدا چاہتا ہے یقینا اللہ بہت بلند اور حکمت والا ہے۔اس آیت شریفہ میں وحی کے نزول کے تین بڑے طریق بیان کئے گئے ہیں۔اوّل: وَحُيَّا، اس کے ماتحت تفسیر الجلالین) میں لکھا ہے۔فِي الْمَنَامِ أَو بِالْإِلْهَامِ۔کہ وحی سے مراد وہ کلام الہی ہے جو خواب میں نازل ہو یا بذریعہ الہام ( جاگتے ہیں )۔اپنی تفسیر جامع البیان میں علامہ معین بن صفی وَحْياً، کے تحت لکھتے ہیں: وَهُوَ الْإِلْهَامُ أَوِ 6 الْمَنَامُ : کہ وحی سے مراد یا الہام ہے یا پھر وہ کلام جو خواب میں نازل ہوتا ہے۔حضرت امام رازی فرماتے ہیں کہ وحیا سے مراد ہے ” وَهُوَ الْإلْهَامُ وَالقَذْفُ فِي الْقَلْبِ اَوِ الْمَنَامِ ( التفسير الكبير - سورة الشورای زیر آیت وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللهُ جلد 27 صفحہ 160) کہ وحی سے مراد، الہام اور بات کا دل میں ڈالنا یا خواب میں علم حاصل ہونا۔