وحی و الہام — Page 60
60 ثابت قدم رہنا اور اس سے بالکل نہ ہٹنا اور نہ خود بھی تو گمراہ ہو جائیگا اور لوگوں کو بھی گمراہ کر یگا کیا تو لوگوں کا امام نہیں ؟ تجھے اس بادشاہ سے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے۔یہ آیت پڑھو إِنَّا جَعَلْنَا فِي إِعْنَاقِهِمْ إِغْلَا لَّا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُونَ (يس:9) کہ یقیناً ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اس لئے وہ سر اونچا اٹھائے ہوئے ہیں۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں جا گا تو قدرت الہیہ سے وہ آیت میری زبان پر جاری تھی۔امام شافعی کو اپنے زمانے کے بادشاہ سے پالا پڑا ہوا تھا جب آپ کو کوئی خطرہ محسوس ہوا تو آپ نے خدا کے حضور مدد کرنے کے درخواست کی ،اس پر آپ کو اس وحی کے ذریعہ اور آیت قرآنیہ سنا کر تسلی دی گئی کہ ان کے مخالفین کا انجام اچھا نہیں۔(۲) قاضی عیاض امی نے اپنی مشہور تصنیف "الشِفَاء بِتَعْرِيفِ حُقوقِ المُصْطَفَى جزء2 صفحہ 13 مطبوعہ مصر میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو حضرت امام احمد بن حنبل سے تعلق رکھتا ہے۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ امام احمد نے حمام میں غسل کرنے کا ارادہ کیا ، عربوں میں ایک پرانا رواج تھا یعنی وہ تمام میں لگے نہایا کرتے تھے جب آپ غسل کے لئے تمام میں داخل ہونے لگے تو حدیث نبی کے مطابق آپ نے چادر باندھ لی اور عام رواج کی پیروی نہ کی غسل کے بعد آپ جب رات کو سوئے تو فرماتے ہیں: فَرَأَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَائِلًا لِيُّ : يَا أَحْمَدُ! ابشِرُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ بِاسْتِعُمَالِكَ السُّنَّةَ وَجَعَلَكَ إمَاماً يُقْتَدى بِكَ، قُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ۔“ 66 کہ میں نے اس رات دیکھا کہ مجھے کوئی کہہ رہا ہے: اے احمد ! تجھے خوشخبری ہو!