وحی و الہام

by Other Authors

Page 46 of 76

وحی و الہام — Page 46

46 مُفِيْدٍ كَمَا لَا يَخْفى - “ ( تفسیر روح المعانى جزء 22 صفحہ 40 زیر آیت خاتم النبین ) یعنی روایات بھری پڑی ہیں اس بات سے کہ صحابہ ﷺنے فرشتے (جبرائیل ) کو دیکھا اور اس کا کلام سنا اور اس کے لئے بطور دلیل ایک آیت ہی کافی ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمارا رب صرف اللہ ہی ہے اور پھر وہ اس پر مضبوطی سے قائم رہے ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے جو انہیں کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشی مناؤ اس جنت کی وجہ سے جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ نبی نہیں ان پر بھی فرشتے اُترتے اور ان سے کلام کرتے ہیں اور کوئی شخص اس بات کا قائل نہیں کہ یہ امر نبوت خاصہ کو ہی چاہتا ہے ہاں یہ کہنا کہ فرشتوں کا یہ نزول اور ان کا کلام موت سے ذرا پہلے ہوتا ہے بے فائدہ ساقول ہے جیسے کہ واضح ہی ہے۔اس میں علامہ موصوف نے قرآن مجید سے استدلال کیا ہے کہ آئندہ بھی فرشتے مومنوں پر نازل ہوتے رہیں گے۔صحابہ ﷺ پر میں کمی کی وجہ : ایک سوال یا خیال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے قریب کے زمانہ میں نزول وحی کا زیادہ ذکر نہیں ملتا یا اس کا کثرت سے اظہار نہیں ہوا جبکہ آپ کے بعد اس کا زیادہ ذکر ملتا ہے۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ابن حجر صحیح بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں: ” وَكَانَ السِّرُّ فِي نُدُورِ الالْهَامِ فِي زَمَنِهِ وَ كَثْرَتِهِ مِنْ بَعْدِهِ۔۔۔۔لِمَنِ اخْتَصَّهُ اللَّهُ بِهِ لِلَامْنِ مِنَ اللَّبْسِ فِي ذَلِكَ (فتح الباری شرح البخاری کتاب التعبير باب المبشرات) یعنی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کے قریب کے زمانہ میں الہام کی وہ کثرت نہیں