وحی و الہام — Page 41
41 ایک فرشتہ ایک نوجوان کی شکل میں آیا: فَقَالَ لِيْ : مَا لَكِ ؟ فَقُلْتُ حَزِيْنَةٌ مِمَّا ذَكَرَ النَّاسُ فَقَالَ: أَدْعِى بِهَذَهِ يفرج عَنْكَ فَقُلْتُ مَا هِيَ ؟ فَقَالَ: قُولِي يَا سَابِعَ النَّعَمِ وَ يَا دَافِعَ التَّقَمِ وَ يَا فَارِجَ الْغَمَمِ وَ يَا كَاشِفَ الظُّلَمِ يَا أَعْدَلَ مَنْ حَكَمَ وَ يَا حَسِيْبَ مَنْ ظَلَمَ! يَا أَوَّلُ بِلَا بِدَايَةٍ وَ يَا آخِرُ بِلَا نِهَا يَةٍ وَ يَا مَنْ لَّهُ اِسْمٌ بِلَا كُنْيَةِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَّيْ مِنْ أَمْرِى فَرْحًا وَمَخْرَجًا قَالَتْ فَانْتَبَهْتُ وَ أَنَا رَيَّانَةٌ شَبْعَانَةٌ وَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْهُ فَرْجِيْ (الدر المنثور جزء5 صفحہ 38 ) یعنی اس نے مجھے کہا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا کہ لوگوں کی باتیں سنکر مجھے سخت غم لاحق ہے۔اس نے کہا ان کلمات کے ذریعہ دعا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے غم کو دور فرمادے گا، میں نے کہا : کون سے کلمات؟ اس نے کہا: یوں کہو: اے جو تمام نعمتیں عطا فرماتا ہے، تمام مصیبتیں دفع کر دیتا ہے ، تمام غموں کو دور کرتا ہے تمام اندھیروں کو نابود کر دیتا ہے اور اے جو سب حاکموں سے زیادہ عادل ہے اور جوسب ظالموں کا احتساب کر نیوالا ہے اور اے خدا جو اول ہے اور تیری ابتداء نہیں اور آخر ہے اور تیری کوئی انتہا نہیں اور اے جس کا نام ہے کوئی کنیت نہیں۔میرے لئے اس غم سے چھٹکارے کا کوئی انتظام فرما۔“ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: " اس کے بعد میں جاگ اٹھی تو میں نے دیکھا کہ میں سیر ہوں نہ پیاس تھی اور نہ بھوک اور نیز خدا تعالیٰ نے میری براءت کے بارے میں اپنا ارشاد بھی نازل فرما دیا۔“ وہ شخص جو نہ کھاتا ہو اور نہ کچھ پیتا ہو، اُٹھے تو سیر ہو، تو یہ وحی کا ہی کرشمہ تھا۔ورنہ سے شدید غم لاحق ہو اور کھانا پینا بھی چھوٹ گیا ہو، اس کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا