وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 68
گیا۔مثلاً وادی قمران کے صحیفے ،اقتصادیر حضرت مسیح ناصری، کفن میسیج حضرت میت کی نظموں کا مجموعہ اور ہرات میں قدیم ترین انجیل کی دریافت۔یہ انجیل احادیث ایسیح کے نام سے ہے جو ایران و افغانستان کی سرحد پر نواح ہرات میں آباد ایک قدیم عیسائی فرقہ کے پاس محفوظ ہے جو مسلمان ہو چکا ہے اور اپنے تیں مسلمان عیسائی کہتے ہیں۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلیب سے بچ گئے اور کنعان سے ہجرت کر کے ہرات میں آئے جہاں اُن کا سلسلہ قائم ہوا، اٹک کی وفات کشمیر میں ہوئی اور "یوز آسف" سے مراد آپ ہی ہیں اور اسی نسبت سے آپ عیسی ابن مریم ناصری کشمیری کہلائے۔ایمینگ دی ڈروشنز (AMONG THE DERVISHES) یعنی اور ولیوں کے درمیان مصنفہ میکائیل پرک MICHAEL BURKE) شائع کردہ آئیگن پریس ندن (OCTAGON PRESS LTD, LONDON) خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلیات کا ایمان افروز منظر خدا تعالیٰ کی قادرا نہ تجلیات ملاحظہ ہوں کہ کسر صلیب کے لیے یہ بدیہی شہادتیں خود عیسائی دنیا کے محققین کے ذریعہ ظاہر ہوئیں اور سب سے بڑھ کر یہ تغیر عظیم ہوا کہ چوٹی کے عیسائی پادریوں نے حیات مسیح " کے عقیدہ کے خلاف بغاوت شروع کر دی، اور لیسون و مسیح کی آمد ثانی سے انکار کر دیا۔صلیب کو غیر سیحی نشان قرار دیا اور اسے قابل احترام سمجھنے یا گلے میں لٹکائے رکھنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کردی۔رکتاب سچائی ناشر واچ ٹاور بائیل اینڈ ٹیکیٹ سوسائٹی آف نیو یارک ۱۹۷۰ء انگریزی ۱۹۷۲ ء اردو ) نے اس مجموعہ میں سیدنا حضرت مہینے دنیا سے مخاطب میں اور فرماتے ہیں مجھے مارنے کی کوشش کی گئی گریں زندہ بچ گیا پھر لکھا ہے کہ وہ ایک بند چوٹی پر کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنی آوانہ دنیا کے ایک کنارے سے دوستی ہے (The Lost Books of the Bible Part II p۔134)