وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 61 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 61

رت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے قلم مبارک کا لکھا ہوا مضمون پڑھ کر سنایا۔یہ مضمون حضور نے اس جلسہ سے صرف ایک دن قبل تحریر فرمایا تھا جسے وہ راتوں رات قادیان سے چھپوا کر عین وقت پر لاہور پہنچے تھے، اس مضمون کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں بشپ صاحب کی پوری تقریر کا مسکت جواب موجود تھا۔لوگ حیران تھے کہ بشپ صاحب کی تقریر کے خاتمہ پر اتنا زبردست مضمون چھپ کر شائع کیسے ہو گیا۔حضرت اقدس نے اپنے اس پر شوکت مضمون میں یسوع مسیح کی وفات کے ناقابل تردید ثبوت دینے اور بتایا کہ زندہ نبی صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں جن کی تاثیرات و برکات کا ایک زندہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے اور اُس کا ایک زندہ نمونہ میں موجود ہوں کہ کوئی قدیم اس بات میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتی مضمون کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا : "خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تائیں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے زندہ رسول محمدصطفی صلی لند وسلم پر دیکھو یں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ باتیں بیچ ہیں اور خدا وہی ایک خدا ہے جو کلمہ رائے ان میں پیش کیا گیا ہے۔مجموعه اشتهارات جلد ۲۶۹۶۳ ناثر الله که الماسه مسیر بوده ) الله جونی یہ مضمون ختم ہوا فضا "اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی اور بشپ لیفرانے کے چہرہ پر ہوائیاں اُڑنے لگیں اور انہوں نے صرف یہ کہ کر اپنی جان بچائی کہ معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو۔ہم تم سے گفت گو نہیں کرتے ہمارے مخاطب عام مسلمان میں، اس وقت مجمع میں مسلمانوں نے جن کی ایک کثیر تعداد موجود تھی بالاتفاق کہا کہ مرزائی اگرچہ کافر ہیں مگر آج اسلام کی عزت انہوں نے رکھ دکھائی ہے۔(الحکم ۱۴ مٹی شاه ص نے کالم ۱)