وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 60
۶۰ جہاں تک مسیحی کلیسا کا تعلق ہے اُس کے لیڈروں نے ایک طرف تو قبر مسیح کو فرضنی پیوترہ قرار دیا ضربت عیسوی از پادری اکبر سیم مسته) دوسری طرف ایک سازش یہ کی کہ پادری مارٹن کلارک کے ذریعہ اگست عشاء میں آپ کے خلاف اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا جس میں بعض علماء سے بھی آپ کے خلاف گواہی دلوائی جنہیں بعد کو انگریزی حکومت نے چار مرتبہ زمین سے بھی نوازا۔(اشاعۃ السنۃ جلد ۱۸ نمبر صفحہ ھو ایڈیٹر مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈوکیٹ اہل حدیث ) عیسائیوں نے تو یہ خونی مقدمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تختہ دار پر لٹکانے کے لیے کھڑا کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے گورداسپور کے جج مسٹر ولیم ڈگلس ( پہلا طوس ثانی ) کے دل پر الیسا تصرف کیا کہ انہوں نے آپ کو باعزت طور پر بری کر دیا۔نیز کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔مگر آپ نے فرمایا :- میں مقدمہ کرنا نہیں چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے"۔لیکچر لدھیانہ ص ) بشپ لیفرائے کی شکست او را سلام کی فتح مبین اس واقعہ پر ابھی تین سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ ۲۵ ر مئی نشہ کو اسلام اور عیسائیت کے اس دائر شدہ مقدمہ کا پہلا فیصلہ صادر ہو گیا اور وہ اس طرح کہ مشہور بشپ پادری جارج ایفرڈ لیفرائے (۱۸۵۴ ۶ - ۱۹۱۹ء) نے لاہور میں دھوم دھام سے ایک پبلک لیکچر دیا کہ محمد صاحب تو فوت ہو چکے اور اُن کی قبر مدینہ میں موجود ہے مگر میسوع مسیح کی نسبت خود مسلمانوں کو مسلم ہے کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔تقریر کے بعد سوالات کا موقع دیا گیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مخلص مرید اور محبت صادق جنہوں نے کچھ عرصہ بعد احمدیہ سلم من امریکہ کی بنیاد رکھی ایک ایک کھڑے ہو گئے