وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 58
۵۸ میں خدا تعالی کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ اس آیت میں شُبَهَ لَهُمْ کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے۔خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھوکہ میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نمای تور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شبہ لھم سے خدا نے کام لیا۔یعنی مخالفین کو اس دھوکہ میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھتے ہیں پس کیونکہ ممکن ہے کہ اس میں آدمی داخل ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام جب آگ میں ڈالے گئے تب بھی یہ عادت اللہ ظہور میں آئی ابراہیم آگ سے جدا نہیں کیا گیا اور نہ آسمان پر چڑھایا گیا، لیکن حسب منطوق آمیت تلنا یا نارکونی بود اے آگ اس کو جلا نہ سکی اسی طرح یوسف بھی جب کو ئیں میں پھینکا گیا آسمان پر نہیں گیا بلکہ کستواں اس کو ہلاک نہ کریگا اور ابراہیم کا پیارا فرزند اسماعیل بھی ذبح کے وقت آسمان پر نہیں رکھایا گیا تھا بلکہ چھری اس کو ذبح نہ کرسکی۔ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محاصرہ غار ثور کے وقت آسمان پر نہیں گئے بلکہ خونخوار دشمنوں کی آنکھیں ان کو دیکھ نہیں سکیں اسی طرح مسیح بھی صلیب کے وقت آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب اس کو قتل نہیں کر سکا غرض ان تمام نبیوں میں سے کوئی بھی مصیبتوں کے وقت آسمان پر نہیں گیا ، ہاں آسمانی فرشتے اُن کے پاس آئے اور انہوں نے مدد کی۔یہ واقعات بہت صاف ہیں اور صاف طور پر ان سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت سیح الانبياء :