وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 45
۴۵ مٹا دیں گے اور دنیا میں کوئی مسلمان دیکھنے کو بھی نہیں لے گا چنانچہ امریکی کے شہرہ بہ داری جان ہنری بیروز نے انیسوی صدی کے نصف آخر میں ہندوستان کا طوفانی دورہ کیا۔مختلف شہروں میں تقریریں کیں، اس سلسلے میں ایک لیکچر ٹیسائیت کے عالمی اثرات کے زیر عنوان دیا جس میں کہا کہ I might sketch movement in mussulman lands, which With the radiance of the Cross the has touched۔Lebanon and the Persian mountains, as well as the waters of the Basphorus, and which is the sure har- binger of the day when Cairo and Damascus and Teheran shall be the servant of Jesus and when even the solitudes of Arabia shall be pierced, and Christ, in the person of His disciples, shall enter the Kaaba of Mecca and the whole truth shall at last be there spoken۔"This is eternal life that they might know Thee, the only true God, and Jesus Christ whom thou hast sent۔" (Barrows Lectures 1896-97, Christianity, The World Wide Religion, by John Henry Barrows, page 42)۔(ترجمہ اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی ضوفشانی اگر ایک طرف لبنان پر ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کے نور سے منور ہے۔یہ صورت حال اس آئندہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے جب قاہرہ، دمشق اور طہران خداوند یسوع مسیح کے مقام سے معمور نظر آئیں گے، حتی کہ صلیب کی چک صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی خداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے ذریعہ لگہ اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگی اور بالآخر وہاں اس حق و صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ابدی زندگی