وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 30 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 30

کیفیت عرض کی کہ وہ سخت مشویش ہیں۔ازاں بعد یکے بعد دیگرے حضرت فضل بن عباس اور حضرت علی منہ ابن ابی طالب داخل ہوئے اور انہوں نے بھی انصار کی بے چینی کا تذکرہ کیا جس پر پنیر حا صل الله علیه ولم شیر خدا حضرت علی المرتضی اور جنت فضل کا سہارا لیے ہوئے حجرہ سے باہر تشریف لائے ، اس وقت حضرت عباش سامنے تھے۔یہ بہت درد انگیز منظر تھا۔سر مبارک پر دردوکرب کے باعث پٹی بندھی تھی اور قدم مبارک زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔نقاہت کا یہ عالم تھا کہ حضورہ منبر کے پہلے زمینہ پری میٹھے گئے ، شمع محمدیت کے پروانے حضور کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی دیوانگی اور وارفتگی کے ساتھ منبر نبوٹی کے گرد جمع ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر رونق افروز ہو کر دل ہلا دینے والا الوداعی خطبہ دیا اور خدا کی حمد دشت کے بعد فرمایا : ياتيهَا النَّاسُ عَنِي أَنَّكُمْ تَخَافُونَ مِن تَمَوْتِ بِكُمْ هل خَلَدَ نَبِيَّ قَبْلَى فِيمَن بُعِثَ إِلَيْهِ فَأَتَخَدَ هَلْ فِيكُمْ الا اني لاحِقٌ بِرَبِّي : المواهب اللدنية جلد ٢ دانية جلد ۲ ۳ تالیف ابو بکر خطیب قسطلانی و مکاشفه القلوب ۲۹ تالیف حضرت الشیخ غزالی مطبوعہ مصر ) ترجمہ : اے لوگو ! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اپنے نبی کی موت سے خوفزدہ ہو گیا مجھ سے پہلے مبعوث ہونے والا کوئی ایک نبی بھی ایسا گزرا ہے جو غیر طبعی عمر پاکر ہمیشہ زندہ رہا ہو کہ میں ہمیشہ زندہ رہ سکوں گا؟ یاد رکھو کہ میں اپنے رب سے ملنے والا ہوں۔"