وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 29
۲۹ تھی کہ : یعنی وہ تمھارا امام ہوگا اور تم میں پیدا ہو گا۔بیا که خود حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے اپنے مثیل کی نسبت پیشنگوئی کی ابن آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا۔دمتی ) معزز حضرات !! حدیث کے لفظ " نُزُول" سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ قرآن میں یہی لفظ اللہ تعالٰی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( الطلاق : آیت (۱۰) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کے لیے استعمال فرمایا ہے (بحارالانوار جلد ۱۳ صفحه ۲۰ از علامہ مجلسی جس کے معنے یقینی طور پر پیدا ہونے کے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث مبارک لا المهدی الا عیسی ابن مریم رابن ماجہ جلد و قلت ) میں امام مہدی کو مسیح ابن مریم کے نام سے موسوم کر کے یہ یا تو سر بستہ بالکل کھول دیا ہے کہ امام مہدی کو عیسی ابن مریم کے نام سے یاد کرنا دینی ہی تمثیل اور تشبیہ بلیغ ہے جیسا کہ حضور نے حضرت علی کو اپنی امت کا ذوالقر نین قرار دیا ہے۔دالترغيب والترهيب ج ۳ صفحه ۳۱۸) تیسری حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری ایام کا واقعہ ہے کہ جب انسار نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے تو انہوں نے نہایت بے قراری اور اضطراب سے مسجد نبوی کے اردگرد گھومنا شروع کیا۔حضرت عباس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انصارلک در دناک