وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 23
۲۳ نی کتاب ما مز آف کشمیر steries of Kashmir) مطبوعہ کے صد پر شائع کیا ہے۔اس قدیم علمی تاریخ کے علاوہ بارھویں صدی ہجری کے ایک کشمیری بزرگ حضرت مولانا خواجہ محمداعظم شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے تاریخ کشمیر عظمیٰ کے صفحہ ۲۷ پر بھی اس تاریخی واقعہ اور قبر پر فیوض و برکات نبوت کے ظاہر ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے۔یہ کتاب پہلی بار ہجری مطابق ہی میں مطبع محمدی لاہور سے شائع ہوئی۔قرآن مجید نے سید نا حضرت مسیح علیہ السلام کو وجيها في الدنيا و العمران اسلام کے لقب سے نوازا جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کے آخری دور میں بہت درجات یعنی عزت اور مرتب در عم لوگوں کی نظر میں بزرگی حلال ہوئی اور خدا علی نے آپکو من مقصد سب نی سرائیل کی طر بجھا تھا وہ پورا ہوگیا چنانچہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اپنی ہجرت کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے جن قبیلوں میں نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کے قبول کرنے کی وصیت فرمائی تھی وہ آخر کار سب کے سبب مسلمان ہو گئے ، لیکن اگر معاذ اللہ میسی نظریہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی صحیح مان لیا جائے کہ حضرت مسیح حادثہ صلیب کے بعد بنی اسرائیل کو چھوڑ کرکشمیر کی بجائے آسمان پر ہجرت کر گئے تھے اور آج تک وہیں جاگزین اور زندہ موجود ہیں تو قرآنی نظریات کی پوری عمارت متزلزل ہو جاتی ہے۔اس پس منظر سے صاف عیاں ہے کہ وفات مسیح کے تصور کا اسلام کی زندگی کے ساتھ ہمیشہ ہی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے حضرت خاتم الانبیاء کا جہا د عقیدۂ حیات مسیح کے خلاف یہی وجہ ہے کہ ہمارے آقا سید الانبیاء سید الاحياء ختم المرسلین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلمنے دو تیم قرآن اور مبط فرمان تھے، ہمیشہ ہی عیسائیت